خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 309
خطبات ناصر جلد پنجم ۳۰۹ خطبه جمعه ۱/۱۹ کتوبر ۱۹۷۳ء ہیں ہم میٹھے کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتے حالانکہ باپ تو تمہارا گڑ اور شکر کھایا کرتا تھا تم اتنی جلدی کھانڈ پر کیسے آگئے تمہارے باپ دادوں میں سے ۹۹۹ اس قسم کا گڑ کھایا کرتے تھے جس کو تم آج ہاتھ لگانا بھی پسند نہیں کرو گے کیونکہ اس وقت تک میل کاٹنے والے آلات اور کیمیاوی نسخے نہیں بنے تھے گنا عام تھا اس سے گڑ بنا لیا جاتا تھا اور اسے عیش کی چیز سمجھا جاتا تھا۔میں پہلے بھی کئی دفعہ بتا چکا ہوں کہ میں علم بڑھانے کے لئے ہر چیز کا مشاہدہ کرتا رہتا ہوں۔ایک دفعہ ہم صبح سویرے تیتر کا شکار کرنے کے لئے باہر گئے تو ہم ایک ایسے کنویں پر جا پہنچے جہاں ایک زمیندار جس نے ساری رات کنواں چلوایا تھا بیٹھا ہوا تھا۔ہم نے وہاں موٹریں کھڑی کیں اور سوچا کہ اسی جگہ ڈیرہ ڈال لیتے ہیں دو پہر کے کھانے کے وقت پانی مل جائے گا صبح کا وقت تھا۔اس زمیندار کی بیوی اس کے لئے کھانا لے کر آئی مجھے خیال آیا کہ دیکھنا چاہیے کہ ساری رات بیچارہ کام کرتا رہا ہے اب یہ کھائے گا تو کیا کھائے گا۔چنانچہ میں السلام علیکم کہہ کر اس کے پاس چلا گیا اور کہا میں تمہارا مہمان آیا ہوں کیا تم اپنے مہمان کو بھی کھانے کا پوچھو گے؟ کہنے لگا کیوں نہیں پوچھوں گا۔خیر میں اس کے پاس بیٹھ گیا اور دیکھا کہ باجرے کی روٹی ہے جس میں گھی ملا ہوا ہے میں نے روٹی کا ایک ٹکڑا لیا اور اس سے اتنی لذت حاصل کی کہ کوئی حد نہیں۔مکھن کی وجہ سے وہ چکنی ہو گئی تھی اس کے ساتھ سرخ مرچ تھی۔میں سرخ مرچ استعمال نہیں کرتا کیونکہ اس سے مجھے تکلیف ہوتی ہے۔میں نے روٹی کا صرف ایک ٹکڑا اٹھالیا اور اس سے بڑی لذت حاصل کی۔میں نے تو صرف یہ علم حاصل کرنا تھا کہ ساری رات کام کرتے کرتے تھکا ہوا یہ زمیندار کیا کھا رہا ہے۔چنانچہ جب میں باجرے کی روٹی کا ایک چھوٹا سا ٹکڑا کھا کر اٹھا تو اس کی بیوی جو ایک طرف بیٹھی ہوئی تھی کہنے لگی اے وی تے لوجی میں نے سمجھا اپنے خاوند کے پیار میں خاص طور پر کوئی بہت ہی اچھی چیز لائی ہے جس کے متعلق اس نے سمجھا ہے کہ اس میں مہمان کو بھی شریک کرنا چاہیے۔جب اس کے چھائے کو دیکھا تو اس میں گڑ کی ڈلیاں پڑی ہوئی تھیں اور یہ اس کے لئے ایک بہت بڑی چیز تھی۔اس نے سمجھا مہمان بغیر گڑ کھانے کے جا رہا ہے اسے گڑ پیش کرنا چاہیے لیکن اب یہ نوبت آ پہنچی ہے کہ گویا ہم کھانڈ کے بغیر زندہ رہ ہی نہیں سکتے خواہ ملک اقتصادی