خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 308
خطبات ناصر جلد پنجم ۳۰۸ خطبه جمعه ۱۹ اکتوبر ۱۹۷۳ء کھالیتے ہیں۔تاہم اب وہاں کی یہ حالت نہیں ہے اب تو وہاں کا غریب آدمی بھی اتنا کھاتا ہے کہ یوں لگتا ہے کہ گویا پہلوان بنا ہوا ہے۔دراصل وہ لوگ اقتصادی لحاظ سے بڑی ترقی کر گئے ہیں۔میرے کہنے کا مقصد یہ ہے کہ یہ چھوٹی چھوٹی باتیں بڑی دلچسپ ہوتی ہیں اور مفید بھی۔اس سے یہ پتہ لگتا ہے کہ مختلف ملکوں میں کیا پکتا ہے اور کیا کھایا جاتا ہے اور لوگوں کی عادتیں کیسی ہیں وغیرہ۔میں نے ۱۹۷۰ ء میں جب مغربی افریقہ کا دورہ کیا تو مجھے معلوم ہوا کہ افریقہ میں لوگ میٹھا نہیں کھاتے۔چنانچہ سیرالیون کے گورنر نے ہماری دعوت کی ہم نے ان کی جوابی دعوت کی جس میں میں نے منصورہ بیگم سے کہہ کر بڑے پیار سے گورنر صاحب کی خاطر ایک ایسا میٹھا کھانا تیار کروایا جوصرف ہمارے گھر میں پکتا ہے اور کوئی آدمی اس کو پکا نا جانتا ہی نہیں ہم اسے ملائی کے گلگلے کہتے ہیں اس نام کی کوئی چیز شاید کسی اور جگہ مل جائے مگر یہ چیز جو ہمارے گھر پکتی ہے وہ اور کہیں نہیں ملتی۔چنانچہ ہم نے بڑی مشکل سے اس کے اجزاء ا کٹھے کئے جو اس میں پڑتے ہیں۔منصورہ بیگم خود باورچی خانہ میں گئیں جہاں ہمارے احمدی اساتذہ کی مستورات کھانا وغیرہ تیار کرتی تھیں اور اپنی نگرانی میں اسے تیار کر وایا مگر جب کھانے پر بیٹھے تو گورنر جنرل صاحب کہنے لگے میں تو میٹھا نہیں کھایا کرتا۔میں نے کہا لو! ایک نیا علم حاصل ہوا۔خیر میں نے ان سے کہا آپ میٹھا نہیں کھایا کرتے ، ٹھیک ہے نہ کھایا کریں لیکن یہ چیز سوائے آج کی اس دعوت کے اور کہیں نہیں ملے گی کیونکہ یہ ہمارے گھر کا نسخہ ہے اس لئے چکھ کے تو دیکھ لیں۔چنانچہ میرے کہنے اور زور دینے پر انہوں نے تھوڑا سا ٹکڑا لے کر کھا لیا لیکن باقی وزراء اور جج صاحبان اور دوسرے معزز افریقن دوست جو میرے قریب نہیں بیٹھے ہوئے تھے اور جن کو میں اصرار سے منوانہ سکا انہوں نے میٹھا نہیں کھایا ہوگا۔اب دیکھو ایک ملک ہے جہاں کے لوگ میٹھا کھاتے ہی نہیں اور ایک ملک ہے مثلاً ہمارا پاکستان جس میں کروڑوں روپے کی کھانڈ باہر سے منگوانی پڑتی ہے۔چنانچہ کچھ عرصہ ہوا حکومت کو اس غرض کے لئے ساٹھ کروڑ روپے کا زرمبادلہ خرچ کرنا پڑا اور یہ بڑا ظلم ہے۔چاہیے تو یہ تھا کہ اتنی بڑی زرمبادلہ کی رقم کسی اور مفید چیز کے منگوانے پر خرچ ہوتی مگر حکومت مجبور ہے لوگ کہتے