خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 310
خطبات ناصر جلد پنجم ۳۱۰ خطبه جمعه ۱۹ اکتوبر ۱۹۷۳ء طور پر کمزور ہی کیوں نہ ہو جائے کھانڈ ضرور استعمال کرنی ہے۔جیسا کہ میں نے ابھی بتایا ہے ساٹھ کروڑ روپے کی کھانڈ باہر سے درآمد کی گئی۔اس کی بجائے اور کئی مفید اور ضروری اشیاء مثلاً مشینری وغیرہ منگوائی جاسکتی تھی جس سے ملک کو فائدہ پہنچتا یا قرآن کریم کی اشاعت کے لئے پریس کی مشینری منگوانے کے لئے ہمیں زرمبادلہ کی ضرورت ہے اس کے لئے زرمبادلہ بچایا جا سکتا تھا۔یہ تو ایک کار ثواب ہے کھانڈ منگوا منگوا کر اور میٹھا گھول گھول کر پی لینے کا کیا فائدہ ہے؟ صرف افریقہ ہی نہیں جہاں میٹھا کھایا ہی نہیں جاتا چین میں بھی بہت کم استعمال ہوتا ہے میرے خیال میں چین نے ایک چھٹانک چینی بھی باہر سے کبھی نہیں منگوائی ہوگی۔جس شکل میں وہ میٹھا بناتے ہیں اسی میں استعمال کر لیتے ہیں مثلاً گڑ ہے وہ استعمال کر لیا۔شکر ہے تو وہ استعمال کر لی یا اگر کہیں کھانڈ بنانے کے کارخانے ہیں تو کھانڈ کی شکل میں استعمال کر لیتے ہیں۔گو یاملکی پیداوار پر انحصار کرتے ہیں باہر سے منگوانے پر پیسے ضائع نہیں کرتے۔یہ ساری چیزیں جو میں نے اس وقت آپ کو بتائی ہیں ان میں سے بعض کا شاید آپ کو پتہ نہیں ہوگا اور اس طرح آپ کو نئے نئے علم حاصل ہو گئے۔اپنے ملک کے فائدہ کے لئے بہت ساری چیزیں سوچنی پڑتی ہیں مثلاً اگر کسی ملک کے ہیں فیصد لوگ کھڑے ہوجائیں اور مطالبہ کریں کہ کھانڈ باہر سے نہ منگوائی جائے تو اس سے اس ملک کی اقتصادی حالت بدل جائے۔اگر ہمارے افریقن بھائی کھانڈ کا استعمال کئے بغیر طاقتور اور ہم سے زیادہ قوت کے ساتھ محنت کر سکتے ہیں اور زندگی گزار سکتے ہیں تو ہم اس کے بغیر زندہ کیوں نہیں رہ سکتے۔پس ایک تو میں نے یہ کہا ہے کہ بیرونِ پاکستان کے احباب وفود کی شکل میں جلسہ سالانہ پر آئیں۔زیادہ سے زیادہ وفود آنے چاہئیں۔اس سال ابتدا ہو جائے گی۔اِنْ شَاءَ اللهُ تَعَالٰی۔اگلے دو تین سال میں اس کا پورا انتظام ہو جائے گا اور ہر ملک جلسہ میں شمولیت کے لئے اپنا وفد بھجوائے گا۔یہاں ان کے لئے رہائش کا انتظام کرنا ہے۔اکرام ضیف کے حکم کے ماتحت ان کی عادتوں کے مطابق ان کے رہنے سہنے اور کھانے پینے کا انتظام کرنا ہے ان کے ساتھ ایسے آدمی رکھنے ہیں جو ان کو ساری چیزیں بتاتے رہیں۔پھر ان کے لئے ایسا انتظام کرنا ہے کہ جب وہ