خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 329 of 640

خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 329

خطبات ناصر جلد چہارم ۳۲۹ خطبہ جمعہ ۲۸ جولائی ۱۹۷۲ء ہے آپ اس کے مختلف حصوں کے متعلق اکثر سنتے رہتے ہیں۔غرض نوع انسان کی پیدائش کا مقصد یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی صفات کا مظہر بنے۔اگر نوع انسان کا کوئی فرد اس کے الٹ چلے تو ظاہر ہے اللہ تعالیٰ اس سے پیار نہیں کرے گا کیونکہ اللہ تعالیٰ مفسد سے پیار نہیں کرتا۔اس واسطے کہ انسانی پیدائش کی جو غرض و غایت ہے مفسد اس کے الٹ چلتا ہے۔اللہ تعالیٰ نے پیدائشی طور پر اسے صالح بنایا تھا۔مگر بڑے ہو کر اس نے اس سے متضاد صفات اپنے اندر پیدا کیں یعنی ایسی راہوں کو اختیار کیا جن سے انسانی حقوق پامال ہوتے ہیں ادا نہیں ہوتے۔اس نے گویا اللہ تعالیٰ کی اس عظیم شریعت سے منہ پھیر لیا جس نے انسان کے ہر قسم کے حقوق قائم کئے اور پھر یہ بھی بتایا کہ ان حقوق کی ادائیگی کے لئے اللہ تعالیٰ نے ہمارے اندر پوری صلاحیتیں پیدا کی ہیں۔بہر حال اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں متعدد جگہ فرمایا ہے کہ جو آدمی مفسد ہے۔اس کے اعمال ، اس کی کوشش اور جد و جہد کا نتیجہ صحیح معنی میں کامیابی نہیں ہوسکتا۔کیونکہ وہ فساد برپا کرتا ہے۔اس لئے اللہ تعالیٰ ایک مفسد کے اعمال کو ان کے نتیجہ کے لحاظ سے صالح قرار نہیں دیتا جو صالح اعمال کا نتیجہ نکلتا ہے وہ مفسد کے اعمال کا نتیجہ نہیں نکلتا۔جو آدمی خدا تعالیٰ اور اس کی صفات سے دور بھاگتا ہے اور اللہ تعالیٰ سے تعلق پیدا نہیں کرتا یعنی جو کام کرنا چاہیے تھا وہ اس نے نہیں کیا اور جو نہیں کرنا چاہیے تھا وہ اس نے کیا تو گو ظاہری اور وقتی طور پر لوگ دھوکا کھا جاتے ہیں مگر حقیقتاً اس کے اعمال کا کوئی نتیجہ نہیں نکلتا۔مثلاً ایک چور ہے۔وہ چوری کر کے آتا ہے اگر وہ صبح پکڑا جائے تو رات کی روٹی تو اس نے اپنے مطلب کے مطابق خوب عیش سے کھائی۔مگر کیا یہ بھی کوئی کامیابی ہے کہ ایک وقت کی روٹی کھالی اور اگلے روز ہتھکڑیاں لگ گئیں اور جیل بھیج دیئے گئے یا کہیں ڈا کہ مارا اور ڈکیتی کے دوران قتل ہو گئے یا اس نے اس نا پائیدار اور بے وفا دنیا میں دنیوی طور پر حظ اور مسرت حاصل کر لی لیکن اُخروی زندگی میں لمبے عرصے کی جہنم سہیڑ لی۔یہ تو کوئی کامیابی نہیں کم از کم ایک بچے احمدی مسلمان کے لئے تو کوئی کامیابی نہیں ہے۔ایک عقلمند کے لئے بھی یہ کوئی کامیابی نہیں ہے۔دنیا کا کوئی عقلمند آدمی اگر ہم اسے اُخروی زندگی کا قائل کر سکیں تو وہ