خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 330 of 640

خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 330

خطبات ناصر جلد چہارم ۳۳۰ خطبہ جمعہ ۲۸/ جولائی ۱۹۷۲ء بھی یہ نہیں کہے گا کہ ایک ایسا فعل جس کے نتیجہ میں چند روزہ تکلیفیں اٹھانے کے بعد ابدی لذتوں اور سرور کا سامان پیدا ہو، وہ اس فعل سے برا ہے جس کے نتیجہ میں چند دن اس کو لذت اور سرور کے ملیں اور پھر ابدی مصیبت، دکھ درد اور بے چینی میں اس کی زندگی گذرے یعنی اگر اُخروی زندگی ہے اور ہمارے نزدیک تو یقیناً ہے تو پھر ہر عظمند یہی کہے گا کہ پہلی چیز بہر حال اچھی ہے۔ابدی مسرتوں کے حصول کے لئے چند روزہ تکالیف کا برداشت کر لینا بہر صورت اچھا ہے۔بجائے اس کے کہ انسان اس دنیا کی چند روزہ زندگی سے فائدہ اٹھالے اور پھر ہمیشہ کے لئے خدا تعالیٰ کے غضب کا مورد بن کر جہنم کی آگ میں جلتا رہے اس سے بہتر ہے کہ انسان اس دنیا کے مصائب برداشت کرلے اور فتنہ و فساد سے بچ کر اللہ تعالیٰ کے غضب سے بچ جائے۔پس مذہباً بھی انسانی فطرت کے لحاظ سے بھی اور عقلاً بھی یہی نتیجہ نکلتا ہے کہ آدمی صالح بنا رہے تو اچھا ہے کیونکہ جہاں تک ہماری عقل کا تعلق ہے یہ تو متعلقات کے مطابق نتیجہ نکالتی ہے مثلاً اگر یہ ہے اور یہ ہے تو پھر اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے۔دو اور دو جمع کئے جائیں تو نتیجہ چار نکلتا ہے۔اس کا آٹھ نتیجہ نہیں نکلے گا۔پس عقلاً بھی یہی درست ہے کہ انسان کی صالحیت ہی نتیجہ خیز ہوتی ہے۔اگر کوئی مفسد بن جائے اور عارضی اور وقتی طور پر اسے بظاہر کچھ فائدہ بھی پہنچ جائے تو یہ دراصل اس کی کامیابی نہیں ہے۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ مفسدوں کے اعمال کو اللہ تعالیٰ صالح اعمال سمجھ کر یا بنا کر ویسا نتیجہ نہیں نکالا کرتا جیسا صالح اعمال کا نتیجہ نکالتا ہے۔پس مفسد لوگ حقیقی طور پر کامیاب نہیں ہوتے۔غرض اللہ تعالیٰ نے فساد کرنے سے منع فرمایا کیونکہ فساد صلاح کے متضاد ہے۔صلاح کے معنے ہوتے ہیں حقوق کی ادائیگی کی اہلیت کا ہونا ، جیسا کہ فساد مسخ شدہ فطرت کو مستلزم ہے اور ایسی صورت میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے عاید کردہ حقوق کی ادائیگی کی صلاحیت ختم ہو جاتی ہے۔اللہ تعالیٰ ایسے شخص کو پسند نہیں کرتا اور نہ اس کے اعمال کے کامیاب نتائج نکالتا ہے۔عجیب بات ہے کہ وہ لوگ جو خدا تعالیٰ کو نہیں مانتے اور خدا تعالیٰ کی اس نصیحت پر کہ فساد نہیں کرنا اس وقت عمل پیرا ہو کر ترقی کر گئے مگر جو لوگ خدا تعالیٰ کو مانتے ہیں وہ اس کی نصیحت کو بھلا بیٹھے ہیں اور اس پر عمل