خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 328
خطبات ناصر جلد چہارم ۳۲۸ خطبہ جمعہ ۲۸ جولائی ۱۹۷۲ء ا چنانچہ عربی کی کوئی لغت دیکھیں بعض جگہ علماء صرف اتنا لکھ دیں گے کہ فسادضد الصلاح اور صلاح ضد الفساد ہے۔بہر حال یہ دو متضاد الفاظ ہیں فساد صلاح کے بالکل متضاد چیز ہے اور صلاح فساد سے بالکل متضاد چیز ہے۔چنانچہ امام راغب نے مفردات میں اصلح کے معنے یہ لکھے ہیں کہ جب اللہ تعالیٰ اس کا فاعل ہو اور انسان اس کا مفعول ہو تو اس کے معنے یہ ہوتے ہیں۔خَلَقَهُ صَالِحًا یعنی اللہ تعالیٰ نے انسان کو پیدائش کے وقت قوت اور اہلیت کے لحاظ سے صالح بنایا ہے۔اسے وہ تمام استعداد میں دی گئی ہیں جو ایک صالح آدمی میں ہونی چاہئیں۔پھر ”صالح“ کے معنے یہ لکھے ہیں کہ جو شخص حقوق کی ادائیگی کی اہلیت رکھتا ہو اور اپنی صلاحیتوں کے لحاظ سے اپنے حقوق اور واجبات کو عملاً ادا بھی کر رہا ہو۔پس ایسے شخص کو عربی میں ”صالح“ کہتے ہیں اور یہ معنے ”فساؤ“ کے الٹ ہیں۔پس اللہ تعالیٰ نے انسان کو وہ تمام قو تیں اور استعداد میں دے کر پیدا کیا ہے اور اس میں یہ اہلیت پیدا کی گئی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے عاید کردہ حقوق کو وہ ادا کر سکے۔پھر حقوق کو ادا کرنے کے طریقے بھی بتائے گئے یعنی نہ صرف اہلیت پیدا کی گئی بلکہ اس کو یہ ہدایت بھی دی گئی کہ تم نے اس اس طرح اپنے حقوق کو ادا کرنا ہے۔چنانچہ اسلامی شریعت نے حقوق کی ادائیگی کے متعلق مفصل احکام بیان کئے ہیں۔نہ صرف یہ بلکہ حقوق کی ادائیگی کے راستہ میں جو روکیں پیدا ہو سکتی تھیں۔ان کو دور کرنے کے لئے بھی احکام نازل کئے گئے ہیں۔غرض اللہ تعالیٰ نے فرمایا میں نے انسان کو صالح پیدا کیا ہے اور میں نے اسے وہ تمام طاقتیں، قوتیں، استعداد میں اور صلاحیتیں دے دی ہیں۔جن کی اسے ان حقوق کی ادائیگی کے لئے ضرورت تھی۔جن کو میں نے اس کے اوپر عاید کیا ہے اور جن کی ادائیگی واجب قرار دی ہے مثلاً انسان کے اپنے نفس کے حقوق کے علاوہ اس پر دوسروں کے حقوق بھی واجب ہیں۔ان سب حقوق کی ادائیگی کے لئے جس جس چیز کی انسان کو ضرورت ہے وہ اسے دے دی گئی ہے۔غرض فِطْرَتَ اللَّهِ الَّتِي فَطَرَ النَّاسَ عَلَيْهَا (الروم : ۳۱) کی رو سے ہماری سب صلاحیتیں اصولی طور پر اس حکم کی بجا آواری کے لئے ہیں کہ ہم اللہ تعالیٰ کی صفات کے مظہر بنیں۔یہ ایک بڑا لمبا مضمون