خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 309 of 640

خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 309

خطبات ناصر جلد چہارم ۳۰۹ خطبہ جمعہ ۲۱؍ جولائی ۱۹۷۲ء جہاد کبیر کے نتیجہ میں وہ ادیان باطلہ پر حملہ آور ہوتی ہے۔اس فوج کو حملہ آور ہوتے وقت کسی مادی ذریعہ کی ضرورت نہیں ہے۔اسے نہ لوہے کی تلوار کی ضرورت ہے اور نہ ایٹم کی توانائی اور طاقت کی ضرورت ہے۔اس کو صرف قرآن کریم کی رُوحانی طاقت کی ضرورت ہے۔میں نے پہلے بھی کئی دفعہ کہا ہے کہ جہاد کبیر کے لئے ہمارے دائیں ہاتھ میں بھی قرآن اور ہمارے بائیں ہاتھ میں بھی قرآن ہونا چاہیے۔پس جہادا کبر نے اسلامی فوج تیار کی۔جہاد کبیر میں اس فوج نے قرآنی انوار کے ہتھیاروں سے ادیان باطلہ پر حملہ کیا اور جب ظلمات نے یہ دیکھا کہ وہ اس کا مقابلہ نہیں کر سکتے تو اُس نے اس نور کو بجھانے کی کوشش کی۔چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔تم اپنے مونہوں سے اللہ تعالیٰ کے نور کو بجھانا چاہتے ہو۔مگر اللہ تعالیٰ کا نورمنہ کی پھونکوں سے نہیں بجھایا جا سکتا اور نہ ہی لوہے کی تلوار یا ایٹم ( ذروں) کی طاقت سے مٹایا جا سکتا ہے۔غرض قرونِ اولیٰ میں مسلمانوں نے ایک فوج کی حیثیت سے مادی ذرائع کا مادی ذرائع سے مقابلہ کیا اور اسلام کی برتری کو ثابت کر دکھایا۔اُنہوں نے اسلام کی خدمت میں کار ہائے نمایاں انجام دیئے۔بایں ہمہ کبر اور غرور اُن کے پاس بھی نہیں پھٹکتا تھا۔وہ انتہائی عاجزی اور تضرع کرتے اور اپنے آپ کو کچھ نہیں سمجھتے تھے اور چونکہ خدا تعالیٰ کو وہ سب کچھ سمجھتے تھے اس لئے دُنیا کی کسی طاقت کی پرواہ نہیں کرتے تھے۔دنیوی طاقتوں سے بے خوفی کا جو جذ بہ پیدا ہوتا ہے یعنی کسی کی کچھ پر اوہ ہی نہیں ہوتی یہ جذبہ محض خشیت اللہ کے نتیجہ میں پیدا ہوتا ہے۔کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے مجھ سے ڈرو اور میرے سوا کسی سے نہ ڈرو۔پس اس قسم کی فوج جو اس قسم کے روحانی ہتھیاروں سے لیس ہوتی ہے یہ جہادا کبر کے نتیجہ میں پیدا ہوتی ہے۔وہ پھر یہ نہیں دیکھتی کہ قیصر کے پاس فوجیں تعداد میں زیادہ، ساز وسامان میں بہتر ہیں یا کسری کے خزانے ہیرے جواہرات سے بھرے ہوئے ہیں۔اتنے ہیرے اور جواہرات اور اتنی دولت اور مال کہ بادشاہ سلامت کو اس کا اور کوئی خرچ نظر نہ آیا تو کہا کہ میرے بڑے بڑے جرنیلوں کی ٹوپیوں پر ایک ایک لاکھ کے جواہرات جڑے ہوئے ہوں گے۔چنانچہ