خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 308 of 640

خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 308

خطبات ناصر جلد چہارم ۳۰۸ خطبہ جمعہ ۲۱؍ جولائی ۱۹۷۲ء محنت کو انتہاء تک پہنچانے کا حکم دیا گیا ہے تو یہ اسلامی جہاد نہ ہوگا۔قرآن کریم ایک عمدہ شریعت اور بڑی عظیم ہدایت ہے۔اسلام اسی پر نہیں ٹھہرا کہ کوشش اور محنت کرو بلکہ وہ انتہائی کوشش اور محنت پر زور دیتا ہے۔محض یہ نہیں فرمایا کہ اپنی زندگی ایک مجاہد کی زندگی کی طرح گزارو۔بلکہ ہمارے سامنے تین قسم کے محاذ کھول دیئے۔ایک نفس کی اصلاح کا محاذ ہے۔دوسرا قرآنی انوار کے ذریعہ شیطانی ظلمات کو دور کرنے کا محاذ ہے اور تیسرا محاذ ہے اسلام کے خلاف مادی طاقت کے مقابلے میں طاقت کے استعمال کا۔جہاں تک طاقت کے مقابلے میں طاقت کے استعمال کا تعلق ہے میں نے تو تلوار کی مثال دی ہے لیکن بعض دفعہ شیطان اس قسم کی طاقت کا استعمال نہیں کرتا بلکہ بعض اور طاقتیں ہیں جو اسلام کے خلاف مختلف شکلوں میں صف آراء ہوتی ہیں۔اس لئے ہم یہ کہیں گے کہ جہادِ اصغر جو ہے وہ دفاع اسلام ہے۔اور جہاد کبیر جو ہے وہ قرآنی انوار کے ساتھ جارحانہ طور پر ادیان باطلہ کو مغلوب کرنے کی بھر پور کوشش ہے اور جہاد کبیر کے لئے ایک فوج تیار کرنا یہ جہا دا کبر کا کام ہے۔کیونکہ اگر اصلاح نفس نہ ہو تو اسلام کی یہ فوج تیار نہ ہو سکے گی۔اسلام کی فوج کی لیاقت اور اس کی صفت یہی نہیں کہ اُسے تلوار چلانا آتا ہے بلکہ اُس کی یہ صفت بھی ہے کہ وہ خدا تعالیٰ کے حکم کے ماتحت اپنے سارے اعمال بجا لاتی ہے۔جہاں تلوار نہیں چلانی تھی وہاں اُنہوں نے تلوار نہیں چلائی۔کیونکہ خدا تعالیٰ نے فرمایا تھا کہ تلوار نہیں چلانی تو اُنہوں نے نہیں چلائی۔مگر جب خدا تعالیٰ کے اذن کے مطابق تلوار چلانے کا وقت آیا تو پھر انہوں نے اس بات کی پرواہ نہیں کی کہ وہ تعداد میں کتنے ہیں۔اُنہوں نے یہ بھی نہیں دیکھا کہ اُن کی تلوار میں لوہے کی ہیں یا لکڑی کی۔انہوں نے یہ بھی نہیں سوچا کہ میدانِ جنگ میں کود جانے کے بعد اُن کے بیوی بچوں کا کیا حال ہوگا۔اُنہوں نے اس بات کا بھی خیال نہیں کیا کہ اُن کے پاس جو تھوڑے بہت اموال ہیں وہ سارے ضائع ہو جائیں گے۔اُنہوں نے صرف ایک چیز دیکھی اور وہ تھی اللہ تعالیٰ کی آواز۔اس پر اُنہوں نے صدقِ دل سے لبیک کہا۔غرض یہ فوج تیار کرنا جہاد اکبر کا کام ہے۔جہاد اکبر کے نتیجہ میں اسلامی فوج تیار ہوتی ہے۔