خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 310 of 640

خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 310

خطبات ناصر جلد چہارم خطبہ جمعہ ۲۱؍ جولائی ۱۹۷۲ء کم و بیش ایک ایک لاکھ کے جواہرات جڑ کر جرنیل کو ٹوپی پہنانے سے میں تو یہ نتیجہ اخذ کرتا ہوں کہ اُن کو یہ سمجھ ہی نہیں آ رہی تھی اُن ہیرے اور جواہرات سے وہ کیا کام لیں۔پھر اسی طرح جب مسلمانوں کو بھی بڑی کثرت سے ہیرے اور جواہرات ملے تو اس قیمتی پتھر سے اُنہوں نے اپنی اور اپنے جرنیلوں کی ٹوپیاں نہیں سجائیں بلکہ انہوں نے مسجدوں کے ماتھے سجا دیئے۔اُن کے محراب سجا دیئے۔اُن کا یہ کام کس حد تک اچھا تھا اس سلسلہ میں میں کچھ نہیں کہنا چاہتا لیکن اتنی بات تو ضرور ہے کہ جرنیل کی ٹوپی سجانے کی نسبت یہ بہتر ہے کہ مسجد کی محراب اور اس کی دیواروں پر ہیرے جواہرات جڑ دیئے جائیں۔بہر حال جہاد اکبر کے نتیجہ میں جو فوج تیار ہوتی ہے وہ مادی ہتھیاروں کے ساتھ حملہ نہیں کرتی۔اُس کے ہاتھ میں مادی ہتھیار نہیں ہوتے بلکہ اُس کے ہاتھ میں قرآنی انوار ہوتے ہیں۔جب وہ اسلام کا دفاع کرتی ہے تو وہ کسی مادی ہتھیار سے دفاع نہیں کرتی خواہ اُس کے مقابلے میں کسری کی عظیم طاقت ہی کیوں نہ ہو۔خواہ اُس کے مقابلے میں قیصر کی عظیم طاقت ہی کیوں نہ ہو۔اُس زمانہ میں یہی دو عظیم طاقتیں تھیں اُن کے مقابلے میں اور کوئی طاقت نہیں تھی۔اُن کی آپس میں بھی لڑائیاں ہوتی رہتی تھیں۔کبھی ایک طاقت جیت جاتی اور کبھی دوسری جیت جاتی تھی۔مگر جہادا کبر کے نتیجہ میں اسلام کی جو فوج اب پیدا ہو رہی ہے، اگر ضرورت پڑی تو وہ ایٹم کی طاقت سے بھی لڑے گی۔اس لئے کہ اللہ تعالیٰ جو سب طاقتوں کا سر چشمہ اور منبع ہے، اِس فوج کو اُس کی طاقتوں کا عرفان حاصل ہوتا ہے۔یہی جہاد اکبر کا نتیجہ ہے یعنی خدا تعالیٰ سے ذاتی تعلق اور اُس کی صفات اور قدرتوں کا کامل عرفان حاصل ہوتا ہے۔میں نے بتایا ہے اسلام نے ہمیں انتہائی محنت کرنے کا حکم دیا ہے یہ ایک بڑا لطیف مضمون ہے جہاں تک انتہائی محنت کرنے کا تعلق ہے اس پر میں نے ابھی مختصر روشنی ڈالی ہے۔دوسرے یہ فرمایا کہ تم احسان کرو۔احسان کے دو معنے ہیں۔ایک یہ کہ کس کو کچھ دینا یا انعام کرنا وغیرہ یہ بھی احسان ہے۔دوسرے یہ کہ عربی لغت میں احسان کا لفظ احسان فی العمل کے معنوں میں بھی استعمال ہوتا ہے۔چنانچہ مفردات امام راغب نے احسان فی العمل کے معنے یہ کئے ہیں کہ جب