خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 219
خطبات ناصر جلد چہارم ۲۱۹ خطبہ جمعہ ۱۲ رمئی ۱۹۷۲ء قربت کا ذریعہ ہوگا۔اللہ تعالیٰ ضرور ان کو اپنی رحمت میں داخل کرے گا۔اس سے پہلے فرمایا تھا قربتِ عِنْدَ اللهِ وَصَلَواتِ الرَّسُولِ۔یعنی اُنہوں نے ذریعہ بنایا تھا۔محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دعاؤں اور آپ کے فیوض کو جذب کرنے کا اور آپ کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے جو فیوض کا ایک دریا چلایا ہے۔ان فیوض سے حصہ لینے کا اور اس کی رحمت میں شریک ہونے کا جو رَحْمَةٌ لِلعلمین کے ذریعہ دُنیا کی طرف نازل ہوئی تھی۔فرمایا کہ ہاں قُربَةٌ لَّهُمْ یعنی اسے انہوں نے قربت کا ذریعہ بنایا ہے۔انہوں نے اسے اللہ تعالیٰ کی قربت اور اس کی رضا کے حصول اور اس کے مقرب ہونے کا ذریعہ سمجھا ہے۔یعنی جولوگ ایمان پر پختگی سے قائم ہیں اور اللہ تعالیٰ انہیں جو مال دیتا ہے وہ اسے اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں ان کے متعلق فرمایا۔الا إِنَّهَا قُرُبَةً لَّهُم اللہ تعالیٰ کی رضا انہیں ضرور حاصل ہو گی۔دوسرے فرمایا تھاوَ صَلَواتِ الرَّسُولِ یعنی محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دعاؤں اور ان کی قبولیت کے بعد اللہ تعالیٰ کے فضلوں کے وارث بننے کے لئے وہ دعائے مغفرت کرتے ہیں۔پس گو ظاہری لحاظ سے اس میں یہ ذکر نہیں کہ وہ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دعاؤں اور آپ کے فیوض سے بہرہ ور ہوں گے لیکن چونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے متعلق اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ آپ رَحْمَةٌ لِلْعَلَمِینَ ہیں۔اللہ تعالیٰ کی رحمت وہی شخص حاصل کر سکتا ہے جو رَحْمَةٌ لِلعلمین کے فیوض سے حصہ پائے۔پس چونکہ حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فیوض سے حصہ لئے بغیر کوئی انسان اللہ تعالیٰ کی رحمت میں داخل نہیں ہوسکتا۔اس لئے اللہ تعالیٰ نے جب یہ فرما یا سَید خِلْهُمُ اللهُ فِي رَحْمَتِهِ تو ساتھ ہی یہ اعلان بھی فرمایا کہ ان کی قربانیوں کی جو غرض تھی یعنی اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل ہو اور حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دعاؤں اور آپ کے روحانی فیوض کا ورثہ ملے۔یہ ان کو حاصل ہو جائے گا، کیونکہ اس کے بغیر وہ اللہ تعالیٰ کی رحمت سے حصہ نہیں لے سکتے۔پس اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ایک تو یہ لوگ ہیں مگر ایک وہ بھی ہیں جو امت محمدیہ میں الہی سلسلہ کے لئے گردشوں کے انتظار میں رہتے ہیں۔گردشیں آتی ہیں مگر امتحان کے لئے یہ مومن کو نقصان نہیں پہنچا سکتیں لیکن ایک منافق اور کمزور ایمان والے آدمی کو ضرور نقصان پہنچاتی ہیں وہ گردش