خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 218
خطبات ناصر جلد چہارم ۲۱۸ خطبہ جمعہ ۱۲ رمئی ۱۹۷۲ء ایک حیلہ بناتا ہے مگر حقیقی معنوں میں روحانی طور پر وہ خود اس بری گردش میں جو اس کو اس دُنیا میں بھی اور آخرت میں بھی نقصان پہنچانے والی ہوتی ہے مبتلا ہوجاتا ہے۔پس اللہ تعالیٰ نے فرما یا گردش تو آئے گی مگر ساتھ ہی تم بھی اس کی لپیٹ میں آؤ گے مومن جب اس گردش کے گردوغبار سے اپنا سر باہر نکالے گا تو اس کا رب اسے زیادہ حسین پائے گالیکن تم جب اس کے گردوغبار سے سر نکالو گے تو شیطان تمہیں زیادہ قریب پائے گا۔اس لئے بری گردش تو درحقیقت تم پر آئے گی۔مومن کے اوپر ان گردشوں کا کوئی اثر نہیں پڑے گا۔عَلَيْهِمْ دَابِرَةُ السوء کے بعد اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَاللهُ سَمِيعٌ عَلِيمٌ۔میں آج تلاوت کر رہا تھا تو اس آیت کے ایک معنی میری سمجھ میں یہ آئے کہ یہ منافق سمجھتے نہیں۔گردش انہی کے اوپر آکر پڑتی ہے۔اس سے نقصان انہی کو ہوتا ہے۔جو لوگ حقیقی مومن ہوتے ہیں ان کو تو اس سے کوئی نقصان نہیں ہوتا۔چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے آسمانی گردش کے بداثرات منافق پر پڑتے ہیں اور یہ اس لئے پڑتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ سمیع بھی ہے اور علیم بھی ہے وہ ان کے زبانی دعووں کو بھی سنتا اور جانتا ہے اور ان کے دلی خیالات سے بھی واقف ہے ان کے زبانی دعووں اور دلی خیالات میں جو تضاد پایا جاتا ہے ، وہی ان کی ہلاکت کا موجب بنتا ہے۔اللہ تعالیٰ ان کے اس تضاد کو جانتا ہے اس واسطے عَلَيْهِمْ دَابِرَةُ السوء کی رو سے بڑی گردش میں وہی مبتلا ہوں گے۔پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ الہی سلسلوں میں اکثریت ان لوگوں کی ہوتی ہے جو اللہ تعالیٰ پر ایمان لاتے ہیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر بھی ایمان لاتے ہیں یعنی خدا اور اس کے رسول پر ان کا ایمان بڑا پختہ ہوتا ہے اور وہ آخرت کی زندگی کو سنوارنے کے لئے بڑی قربانیاں دیتے ہیں اور اس دُنیوی زندگی میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اسوہ حسنہ پر چلتے ہیں اور خدا کی راہ میں جو مال خرچ کرتے ہیں اُسے اللہ تعالیٰ کی قربت اور رسول کی دعاؤں کا ذریعہ سمجھتے ہیں۔ایسے لوگوں کے متعلق اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔الَّا إِنَّهَا قُرُبَةٌ لَهُمْ سَيْدُ خِلُهُمُ اللَّهُ فِي رَحْمَتِهِ یعنی ان کا ایمان لانا اور خدا کی راہ میں اموال خرچ کرنا ان کے لئے ضرور خدا تعالیٰ کی