خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 220
خطبات ناصر جلد چہارم ۲۲۰ خطبہ جمعہ ۱۲ رمئی ۱۹۷۲ء جس کا الہی سلسلہ کے لئے وہ انتظار کرتے تھے عَلَيْهِمْ دَابِرَةُ السَّوء کی شکل میں ظاہر ہو کر ان کو نقصان پہنچا دیتی ہے۔وہ ان کے لئے ہلاکت کا باعث بن جاتی ہے۔الہی سلسلوں میں اکثر لوگ تو مومن ہوتے ہیں۔وہ اپنے دلوں میں اخلاص رکھتے ہیں۔وہ اپنے سینوں میں ایثار کا جذبہ رکھتے ہیں وہ صاحب فراست ہوتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی صفات کی معرفت رکھتے ہیں اور اس کی رضا پر اپنی ہر چیز کو قربان کر دیتے ہیں۔اس لئے وہ تنگی اور ترشی میں بھی اپنے وعدوں کو پورا کرتے اور اپنے اموال کو خدا تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں جس کے نتیجہ میں وہ اللہ تعالیٰ کی رضا اور اس کے قرب کو حاصل کرتے اور حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دعاؤں اور آپ کے فیوض کے وارث بنتے ہیں۔پس الہی سلسلوں میں یہ بات ہمیں نظر آتی ہے اور ہم اس یقین پر قائم ہیں کہ جماعت احمد یہ بھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے قائم کردہ ایک الہی سلسلہ ہے جو اس لئے قائم ہوا ہے کہ اس کے ذریعہ غلبہ اسلام کی پیشگوئی پوری ہو۔غرض احمدیت کی شکل میں ایک مہم جاری کی گئی ہے جس کے ذریعہ اسلام غالب آئے گا۔اللہ تعالیٰ کی وحدانیت ساری دُنیا میں قائم ہوگی اور حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا بلند مقام لوگوں پر ظاہر ہو گا۔جو دلوں میں ایک نور اور سرور پیدا کرنے والا بنے گا۔انشاء اللہ العزیز میں نے پچھلے خطبہ جمعہ میں بتایا تھا کہ اس قسم کی منافقانہ باتیں درحقیقت الہی سلسلوں کی راہوں میں رکاوٹیں نہیں بنا کرتیں لیکن ایسے لوگ ہر الہی سلسلہ میں پائے جاتے ہیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زندگی میں بھی تھے اور بعد میں بھی اسلام میں ہر زمانے میں رہے ہیں اور اب بھی ہیں۔چنانچہ کئی کمزور اور منافق طبع لوگوں نے جب یہ دیکھا کہ یہ سال گردشوں کا سال ہے تو انہوں نے سمجھا کہ شائد اس کے نتیجہ میں مجبور ہوکر ، دنیوی حوادث اور مصیبتوں کے نیچے آکر جماعت احمدیہ مالی لحاظ سے یا بعض دوسرے لحاظ سے اپنی ذمہ داریوں کو اپنی اس کیفیت اور کمیت میں اس طرح ادا نہ کر سکے گی جس طرح وہ پچھلے سالوں میں ادا کرتی رہی ہے چنانچہ اس قسم کی باتوں میں سے ایک بات مجھ تک یہ بھی پہنچی کہ بعض منافق کہتے ہیں کہ اس