خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 135 of 640

خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 135

خطبات ناصر جلد چہارم ۱۳۵ خطبه جمعه ۲۴ / مارچ ۱۹۷۲ء اس عہد سے کیسے عہدہ برآ ہوں گا۔چنانچہ اس کے متعلق بھی قرآن کریم ہی نے ہمیں یہ بتایا ہے کہ اگر تم ثبات قدم چاہتے ہو تو اس کا ایک طریق یہ ہے کہ إن تَنْصُرُوا اللهَ يَنْصُرُكُمْ وَيُثَبِّتُ أَقْدَامَكُمُ یعنی اگر تم اللہ کے دین کی مدد کرو گے تو وہ تمہاری مدد کرے گا اور تمہارے قدموں کو مضبوط کرے گا۔لَا يُولُونَ الْأَدْبَارَ میں بھی یہی بتایا گیا تھا ہمارا اپنے رب سے عہد ہے کہ ہم خدا کی راہ میں ثبات قدم دکھا ئیں گے اور مختلف رنگ کے مختلف جہاد میں سے کسی میں بھی ہم منہ نہیں پھیریں گے اور پیٹھ نہیں دکھا ئیں گے۔اگر چہ ان آیات میں خاص طور پر جنگ کا ذکر ہے جو ظاہری سامانوں کے ساتھ لڑی جاتی ہے لیکن اس میں جو اصولی بات بیان ہوئی ہے وہ یہی ہے کہ خدا تعالیٰ کی راہ میں پیٹھ نہیں دکھانی۔اپنی ذمہ داریوں سے منہ نہیں پھیرنا بلکہ ہر حال میں ان کو نباہتے چلے جانا ہے۔غرض اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تمہاری ذہنیت ایسی ہونی چاہیے کہ تم ہر حالت میں اور ہر صورت میں اللہ تعالیٰ کے دین کی مدد کرتے رہو گے۔اگر تمہارا یہ پختہ عزم ہوگا کہ تم خدا تعالیٰ کے دین کی مدد کرتے رہو گے اور کسی صورت میں بھی اس عہد کے خلاف کام نہیں کرو گے تو آسمان کے فرشتے نازل ہوں گے جو تمہارے قدموں میں ثبات پیدا کر دیں گے اور پھر تم خدا تعالیٰ کی مہربانی سے اپنے عہد پر پورا اُتر و گے۔پس يَنْصُرُكُمْ وَيُثَبِتُ اَقْدَامَكُمُ میں اس نصرت الہی کا وعدہ ہے جو خدا تعالیٰ کے فرشتے ثبات قدم پیدا کریں گے۔کیونکہ اس کے بغیر انسان کچھ نہیں کر سکتا۔اور اِنْ تَنْصُرُوا اللہ کے ظاہری طور پر صرف یہی معنے ہیں کہ مثلاً لوگ خدا کی راہ میں لڑنے کے لئے ہتھیار لے کر آگئے یا جہاد کے لئے پیسے دے دیئے بلکہ اللہ کے دین کی نصرت سے مراد وہ فدائیت ہے جو انسانی فطرت کا جزو بن جاتی ہے جو اس کی ذہنیت بن جاتی ہے جو انسان کی روح بن جاتی ہے۔انسان کی ایمانی روح ہی یہ ہے کہ خواہ کچھ ہو جائے اللہ تعالیٰ کے دین کی مدد کرتے رہنا ہے اور پھر دین کی یہ نصرت ہزار قسم کی ہو سکتی ہے۔کیونکہ ہزار قسم کے مطالبات ہیں جو ہزار قسم کے مختلف حالات