خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 134 of 640

خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 134

خطبات ناصر جلد چہارم ۱۳۴ خطبه جمعه ۲۴ / مارچ ۱۹۷۲ء کے پابند ہیں، وہ یہ ہے کہ جو لوگ حقیقی طور پر ایمان لائے ہیں، خدا تعالیٰ کی راہ میں انہیں جو مجاہدہ اور جد و جہد کرنی پڑے گی وہ اس سے منہ نہیں پھیریں گے، وہ اس سے پیٹھ نہیں دکھا ئیں گے۔چنانچہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں یہ عہد یاد دلایا ہے۔قرآن عظیم جو قیامت تک کے لئے ایک کامل شریعت ہے ، وہ ہر صبح و شام ہمیں یہ یاد دلاتی ہے کہ تم نے اس عہد کو بھولنا نہیں کیونکہ یہ ایک ایسا عہد ہے جو خدا تعالیٰ سے باندھا گیا ہے اور اس کے لئے ہمیں خدا تعالیٰ کے سامنے جواب دہ ہونا پڑے گا۔حدیث میں آتا ہے کہ جس سے واقعی جواب طلبی کی گئی تم سمجھو کہ وہ ہلاک ہو گیا، کیونکہ اللہ تعالیٰ جب کسی پر رحم کرنے پر آتا ہے تو اس کی رحمت جوش میں آتی ہے اور وہ اپنے بندوں کو معاف کر دیتا ہے وہ انہیں یہ جتاتا بھی نہیں ہے کہ اُن کے کیا گناہ تھے۔وہ اپنی رحمت میں انہیں لپیٹ لیتا ہے اور نور کی چادر اُن کے گرد باندھ دیتا ہے۔اُس انگلی دُنیا میں بھی کسی دوسرے کو بھی بلکہ خود اپنے آپ کو بھی پتہ نہیں لگے گا۔خدا تعالیٰ کے نور اور اس کی رحمت کی چادر انسان اور اس کی بداعمالیوں کے درمیان کچھ اس طرح آجائے گی کہ خود انسان اپنے گناہوں ،غلطیوں ، کوتاہیوں، بے ادبیوں اور نافرمانیوں کو بھول جائے گا۔کیونکہ اگر وہ نہ بھولے تو پھر جنت کا وہ تصور باقی نہیں رہتا جسے خدا تعالیٰ نے قرآن کریم میں بیان فرمایا ہے۔لیکن مَنْ حُوَسِبَ عُذِّبَ یعنی جس کا واقعی ساب لیا گیا وہ ضرور ہلاک ہو گیا۔مگر یہ عہد ایسا ہے جس کے متعلق خود اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے اور چیزوں کے متعلق بھی فرمایا ہے کہ) تمہارا حساب لیا جائے گا۔غرض یہ عہد ایک ایسا عہد ہے کہ یہ مسولا“ ہے یعنی تم سے اس کی جواب طلبی کی جائے گی۔تمہیں اس کا حساب دینا پڑے گا۔تم سے اس کے متعلق پوچھا جائے گا اور تم سے اس بارے میں سوال کیا جائے گا کہ تم نے یہ عہد کیا تھا اسے تم نے کیوں نہیں نباہا۔پس یہ ایک بڑا پختہ عہد ہے جو بندوں سے لیا گیا ہے۔مگر خدا تعالیٰ کے سامنے جواب دہ ہونا کوئی آسان کام نہیں ہے اور نہ ہی یہ کوئی ہلکا کام ہے جسے ہم نظر انداز کر دیں۔انسان سوچتا ہے اتنی بڑی ذمہ داری میں نے نباہنی ہے۔اللہ تعالیٰ کی ہدایت اور اس کی مہربانی کے بغیر میں 66