خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 136
خطبات ناصر جلد چہارم ۱۳۶ خطبه جمعه ۲۴ / مارچ ۱۹۷۲ء میں کئے جاتے ہیں۔مثلاً مالی قربانیاں ہیں جان کی قربانیاں ہیں یعنی وقف زندگی کی شکل میں زندگی کی قربانی ہے۔پھر اشاعت قرآن کے لئے جد و جہد ہے جو آج کل بڑے زور سے شروع ہے۔اللہ تعالیٰ ہمیں اس میں کامیابی عطا فرمائے اور یہ دراصل جہادا کبر ہے۔کسی آدمی نے پتہ نہیں یہ کیسے کہہ دیا تھا کہ اسلام کی اشاعت کے لئے ایک ہاتھ میں قرآن اور دوسرے میں تلوار ہو، تب صحیح نتائج برآمد ہوتے ہیں۔لیکن ہمیں تو خدا تعالیٰ نے یہ فرمایا ہے اور یہی حقیقی الہی آواز ہے جو ہمارے کانوں میں پڑی ہے اور جس کا ہم دنیا میں اعلان کرتے ہیں کہ ہمارے ایک ہاتھ میں قرآن ہے اور ہمارے دوسرے ہاتھ میں بھی قرآن ہے۔قرآن کریم نے ہمارے دونوں ہاتھوں کو مصروف رکھا ہوا ہے۔البتہ قرآن کریم جب یہ کہتا ہے تلوار پکڑ لو تو ہم تلوار پکڑ لیتے ہیں۔لیکن قرآن کریم ہی جب یہ کہتا ہے کہ مدافعانہ تلوار کا زمانہ گزر گیا اب ہم نے تلوار کا کام قلم سے دکھانا ہے اب ہم نے تلوار کا کام نیکی کی باتوں کو بیان کر کے اپنی زبان سے دکھانا ہے۔اب ہم نے میدان تبلیغ میں کو دکر ان لوگوں سے مشابہت حاصل کرنی ہے جو میدانِ جنگ میں کو دجاتے تھے۔اب ہم نے میدان تبلیغ اور اشاعت اسلام کے میدان میں ڈٹ جانا ہے اور اس میں ثبات قدم کے ساتھ کوشاں رہنا ہے۔ہم نے اس میدان سے منہ نہیں پھیرنا۔کمزوری نہیں دکھانی۔دُنیا کی لالچ میں نہیں پڑنا کیونکہ ہم نے خدا تعالیٰ کے ساتھ یہ عہد کیا ہوا ہے کہ ہم تیرے دین کی مدد کریں گے۔پس یہ وہ ذہنیت ہے جس کی طرف اِنْ تَنْصُرُوا اللہ میں اشارہ کیا گیا ہے۔یعنی اگر تم خدا تعالیٰ کے دین کی مدد کے لئے اس طرح تیار ہو جاؤ گے کہ ہر دوسری چیز کو بھول جاؤ گے تو تمہاری یہی ایمانی روح خدا تعالیٰ کے دین کی مدد کا ذریعہ بن جائے گی۔ہم حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو ماننے والے ہیں اور ہم نے آپ ہی کے ذریعہ حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حسن کا مشاہدہ کیا ہے۔آپ نے فرمایا ہے کہ جو آدمی خدا تعالیٰ کے عشق میں مخمور ہو جاتا ہے اس کو تو اس بات کی ہوش بھی نہیں ہوتی کہ میری کوئی تعریف کر رہا ہے یا نہیں ، میرے اوپر کوئی لعن طعن کر رہا ہے یا نہیں۔وہ تو اللہ تعالیٰ کے عشق میں مست