خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 553 of 640

خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 553

خطبات ناصر جلد چہارم ۵۵۳ خطبہ جمعہ یکم دسمبر ۱۹۷۲ء بات آئی ہے ( بعض جگہوں پر تو میں ابھی نہیں جا سکا ) ہمارا دار العلوم کالج اور ربوہ کے درمیان جو محلہ ہے وہ بڑا آباد ہو گیا ہے وہاں بھی نلکوں کا پانی ہے لیکن کہیں اچھا اور کہیں خراب ہے اگر اچھا پانی مل جائے تو ایک پمپ وہاں بھی لگانا پڑے گا کیونکہ وہاں پر کافی کھلی جگہ موجود ہے اور اس محلہ کو بھی سرسبز بنا دیا جائے اگر صحتیں اچھی رکھتی ہیں تو ہمیں ہر محلے کو ایسا بنا دینا چاہیے کہ دوسرے لوگ یہ کہیں کہ باغ زیادہ ہے اور آبادی کم ہے ( درختوں کے اندر مکانات چھپ جاتے ہیں ) تا کہ ہماری اور ہمارے بچوں کی صحت ٹھیک رہے۔جہاں تک الف محلہ کا تعلق ہے بہت سارے دوست دُوری کی وجہ سے ہسپتال پہنچ ہی نہیں سکے کئی ایسے خاندان ہیں جن کے مرد باہر کما رہے ہیں صرف ان کے بیوی بچے یہاں ہیں ایسے حالات ہو سکتے ہیں۔یہ محلہ کے پریزیڈنٹ کا فرض تھا کہ یا خود انتظام کرتا یا ہمیں بتا تا اور ہم انتظام کرتے بہر حال اس کا انتظام ہونا چاہیے اس کے لئے محلے کی مجلس عاملہ سر جوڑے اور سوچے کہ کیوں کوئی ایک خاندان بھی ایسا رہا ہے جس کے بیمار افراد کا علاج نہیں ہو سکا اور یہ ایک بڑی غلط بات ہے کہ دوست باہم مشورہ نہیں کرتے مشورہ کر نا فرض ہے۔مشورہ لینے کے بعد فیصلہ کرنا چاہیے اس کے لئے اسلام نے دنیا کے طریقوں سے ایک بہتر طریقہ بتایا ہے لیکن مشورہ کرنا افضل قرار دیا ہے۔اس لئے الف محلے کی مجلس عاملہ کو چاہیے کہ سارے محلے کو اور سارے محلے میں جتنی مسجدیں ہیں ( بڑا پھیلا ہوا محلہ ہے میرے خیال میں کم از کم وہاں ۳ مسجد میں ہیں ) ہر مسجد میں قریب کے دوستوں کو بلا کر پوچھیں کیوں تمہارا علاج نہیں ہوسکا؟ کیا طریقہ اختیار کیا جائے اور پھر وہ اپنی رپورٹ سارے ربوہ کی جو مجلس عاملہ ہے جس کا صدرصد رعمومی کہلاتا ہے اس مجلس میں وہ پیش ہو پھر وہ سوچیں پھر اسی طرح دوسرے محلوں کا جائزہ لیں۔جانتے بوجھتے ہوئے بعض خاندانوں میں کسی مریض کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔صدر عمومی کی مجموعی رپورٹ آنے پر پھر ہم خود بھی غور کریں گے یا ہم کسی ڈاکٹر کی ڈیوٹی لگائیں گے کہ وہ ہر روز یا ضرورت کے مطابق دوسرے دن یا ہفتہ میں دو بار یا ہفتہ میں ایک بار مقررہ وقت پر مریض کو دیکھنے کے لیے جایا کرے اور ان سے ملے اور ان کا علاج کیا کرے۔