خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 554
خطبات ناصر جلد چہارم ۵۵۴ خطبہ جمعہ یکم دسمبر ۱۹۷۲ء آج ہمارے ملک میں ایم بی بی ایس ڈاکٹر ہر مریض کو میسر آہی نہیں سکتا کیونکہ ملک کی آبادی زیادہ ہے اور ایم بی بی ایس ڈاکٹروں کی تعداد بہت تھوڑی ہے اس مسئلے کو ہمارا ملک کس طرح حل کرے گا ؟ یہ تو وہ جانیں جنہیں اس وقت سیاسی اقتدار حاصل ہے لیکن ہمیں اپنا تو کوئی نہ کوئی طریق معلوم کرنا ہی چاہیے۔چین میں ہمارے ملک کی نسبت یہ مسئلہ زیادہ اہمیت کا حامل تھا۔ستر کروڑ کی آبادی اور ایم بی بی ایس معیار کا ڈاکٹر اس سے بھی تھوڑی تعداد میں تھا جتنا اس وقت پاکستان میں ہے۔اس واسطے انہوں نے اپنے لئے ایک طریق ایجاد کیا۔میں یہ نہیں کہتا کہ اس کی نقل کرنی چاہیے میں یہ کہتا ہوں کہ تم عملی قدم اٹھاؤ اور جو تمہارا مسئلہ ہے اپنے حالات کے مطابق اس کوحل کرو۔اس کو اسلام کی اصطلاح میں عمل صالح کہتے ہیں یعنی ایسا نیک کام جو حالات کے مطابق اور ضرورت کے مطابق کیا جاتا ہے انہوں نے یعنی چینیوں نے شروع میں یہ کہا (ابھی تک ان کا یہ منصوبہ چل رہا ہے ) کہ دسویں بلکہ آٹھویں پاس ذہین طالب علموں کو تین مہینے کا کورس یا چھ مہینے کا کورس پڑھا کر ایک قسم کا ڈاکٹر بنا دیا اور پھر انہوں نے اسی پر اکتفا نہیں کیا بلکہ انہوں نے یہ کیا کہ ایک علاقہ منتخب کیا اور وہاں ماہرین دس دس پندرہ پندرہ دن کے لئے بھیجے اور کہا پتہ کرو بیماریاں یہاں کیا ہیں؟ انہوں نے رپورٹ کی مثلاً ملیریا ہے یا پیچش ہے اور نزلہ کھانسی یہی چار پانچ بیماریاں ہیں جو عام طور پر ہوتی ہیں۔یعنی بیماریوں کا نوے فیصد ان بیماریوں پر مشتمل، دس فیصد یا اس سے بھی کم اور قسم کی بیماریاں ہوتی ہیں۔انہوں نے آٹھویں یا دسویں جماعت میں طالب علموں کو چار پانچ بیماریوں کے متعلق پورا علم سکھا دیا بلکہ ان کو زبانی طور پر رٹا دیا کہ اگر کسی کو ملیر یا بخار ہو اور اس کی یہ یہ علامتیں ہوں تو یہ یہ علاج کرنا ہے اور انفلوئنزا کی یہ علامتیں ہوتی ہیں اس میں یہ علاج کرنا ہے یا اگر کسی کو پیچش ہو تو اس میں یہ دیکھنا ہے خونی پیچش ہے یا بادی ہے، قبض والی ہے یا بد ہضمی کی وجہ سے پیش آرہی ہے۔اس کے مطابق علاج کرنا ہے، چنانچہ ان بیماریوں کے متعلق پندرہ ہیں نسخے سکھا کر ان کو مختلف جگہوں پر لگا دیا اور ساتھ یہ بھی کہا کہ جب کسی مریض کی بیماری کی تشخیص میں الجھن ہو تو ہمیں اطلاع دو ہم اس کو کسی ہسپتال لے جائیں گے۔غرض یہ وہ طریق تھا جس کو اختیار کر کے انہوں نے بیماریوں پر قابو پالیا ہم نے ان کی نقل