خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 552 of 640

خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 552

خطبات ناصر جلد چہارم ۵۵۲ خطبہ جمعہ یکم دسمبر ۱۹۷۲ء میں اسلام کو غالب کریں۔جس قوم کی اتنی بڑی ذمہ داری ہوتی ہے اس کے افراد کیا چھوٹے کیا بڑے کیا مرد اور کیا عور تیں صحت کے لحاظ سے سب سے زیادہ اچھے ہونے چاہئیں۔پس اس محلے کے متعلق ایک تو میں نے یہ ہدایت کی ہے کہ وہاں تالاب بنیں گے۔اس اور اس طرح کے دوسرے کا موں کو ہم سب نے مل کر کرنا ہے بعض لوگ کہہ دیتے ہیں کہ جماعت ہمارے لئے فلاں چیز بناوے۔یہ بات غلط ہے۔تمہیں ہم نے اپاہج تو نہیں بنانا اسی طرح جماعتی تنظیم کی طرف سے اگر کہ دیا جائے کہ ہر محلہ خود کام کرے ہمیں کام کرنے کی کیا ضرورت ہے تو یہ بات بھی غلط ہے کیونکہ جب میں نے یہ کہا تھا کہ میں اور جماعت ایک ہی وجود کے دو نام ہیں تو اس سے یہ بھی نتیجہ نکلتا ہے کہ ہم سب کی اجتماعی ذمہ داری ہے۔پس جو بات میں نے الف محلے کے دوستوں سے نہیں کہی تھی وہ اب میں سمجھتا ہوں کہ کہنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔میں نے سوچا تھا کہ اب پانی نکالنے والے بڑے اچھے پمپ پاکستان میں بھی بننے لگ گئے ہیں بیکو نے مونو بلاک کی شکل میں بڑے اچھے پمپ بنالئے ہیں جو اچھی خاصی مقدار میں پانی باہر نکالتے ہیں ابھی پیچھے ہمارے بچوں کو زمین کے لئے پمپ کی ضرورت تھی انہوں نے سات انچ سکشن اور چھ انچ ڈلیوری والا پمپ ۲۵۰۰ روپے میں خریدا ہے میرا خیال ہے کہ ہم مشورہ کریں گے اور جائزہ لیں گے۔اگر دو سکشن اور دو ڈلیوری کا مونو بلاک بنتا ہو تو یہ بڑا Efficient (ایفی شینٹ ) ہوتا ہے۔یہ گیارہ سو روپے میں آجائے گا میرے ذہن میں یہ تھا کہ جب وہاں پانی کے لیے کافی مقدار میں انتظام ہو جائے اورسارے محلے کوسرسبز بنانے کے لئے جتنی محنت وہ محلہ کر سکتا ہے وہ تو ان سے لی جائے جتنی محنت دوسرے بھائی وہاں پہنچ کر وقار عمل کے ذریعہ کر سکتے ہیں وہ کریں تالاب بن جائے پانی کو محفوظ کر لیں پانی کی زیادتی ہو جائے تو نلکوں کے پانی میٹھے ہو جائیں گے اور پھر اگر چہ وہ غریب محلہ ہے لیکن وہاں کے دوست اپنے حالات کے مطابق پانی کے پمپ کے لئے پچاس روپے جمع کر سکتے ہوں تو پچاس روپے ان کو ضرور دینے چاہئیں اور اس میں سے جتنا باقی رہ جائے گا وہ پھر جماعت کا کام ہے۔اس کا ہم انتظام کر دیں گے وہاں تو ایک پمپ کی ضرورت ہے اور اسی طرح ابھی تک جو میرے علم میں