خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 550 of 640

خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 550

خطبات ناصر جلد چہارم خطبہ جمعہ یکم دسمبر ۱۹۷۲ء دو فٹ کی اور بعض جگہ چارفٹ کی ہے۔پھر دس بارہ فٹ کے بعد ایک اور تہہ آتی ہے اور وہ بھی بڑی سخت ہوتی ہے۔اکثر دوست جنہوں نے درخت لگائے اور انہیں اللہ تعالیٰ نے مشاہدہ کی توفیق اور طاقت بخشی ہے انہوں نے دیکھا ہوگا کہ چنگا بھلا درخت تھا صبح کو اٹھے تو وہ مرجھایا ہوا تھا۔اس کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ جب تک اس کی جڑیں نیچے جا کر اپنی غذا لیتی ہیں اور اس کو کوئی صدمہ نہیں پہنچتا اسے طبعی نشو و نما ملتی رہتی ہے اور جس وقت رات کے کسی حصہ میں اس کی جڑوں نے سخت زمین کے اندر داخل ہونے کی کوشش کی لیکن داخل نہ ہو سکیں تو جس طرح انسانوں کا Heart Fail (ہارٹ فیل ) ہو جاتا ہے درختوں کا بھی فیل ہو جاتا ہے یعنی گو اس کا دل انسان کی طرح تو نہیں ہوتا لیکن اُسے ایک ایسا صدمہ پہنچتا ہے کہ اس کی زندگی صدمہ کو برداشت نہیں کر سکتی اور درخت مرجاتا ہے۔میں نے خود یہ مشاہدہ کیا ہے۔ایک درخت رات کو ٹھیک تھا۔صبح دیکھا تو مرا ہوا تھا۔پس یوکلپٹس ایسے درختوں میں سے نہیں۔وہ اس صدمہ کو سہہ بھی لیتا ہے اور پھر اس کی جڑیں اگر نیچے زمین سخت ہو تو او پر پھیلنے لگ جاتی ہیں میں نے شروع شروع میں کالج میں درخت لگوائے ایک درخت دوسرے تیسرے سال میں کوئی ۲۰٫۲۵ فٹ بڑا ہوا تو پاس ہی ایک جگہ خالی پڑی تھی مجھے خیال آیا کہ وہاں درخت لگوا دوں وہاں درخت لگوانے کے لیے گڑھا کھدوایا تو یوکلیپٹس کی جڑیں وہاں تک پہنچی ہوئی تھیں کیونکہ وہ جگہ ۲۵ فٹ کے اسی دائرہ کے اندر تھی جس میں یوکلپٹس بھی لگا ہوا تھا یہ شور اور کلر کو کھاتا ہے۔میں نے خود دیکھا ہے کہ بعض دفعہ اس کے پتوں کو ہاتھ لگا کر دیکھیں تو شور کے باریک باریک ذرّے پتوں کے اوپر جمے ہوئے ہوتے ہیں۔وہ شور کھاتا ہے۔کچھ ہضم کر لیتا ہے اور کچھ باہر نکال دیتا ہے جو باہر پتوں پر بار یک بار یک ذرّوں کی شکل میں جم جاتا ہے پس کلر ایک لحاظ سے یوکلپٹس کی غذا بھی ہے اور یہ اسے دور بھی کرتا ہے اس لئے ربوہ میں جو خراب زمین ہے اس میں یو کلیپٹس کا درخت بڑا مفید ثابت ہوتا ہے۔بہاولپور کی طرف ایک بہت بڑا علاقہ تھا جہاں کوئی درخت نہیں اگتا تھا۔دس پندرہ سال پہلے کی بات ہے اس وقت کی حکومت نے مشورہ کے لئے آسٹریلیا سے ماہرین منگوائے اور لاکھوں روپیہ ان پر خرچ