خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 549 of 640

خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 549

خطبات ناصر جلد چہارم ۵۴۹ خطبہ جمعہ یکم دسمبر ۱۹۷۲ء حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آج سے چودہ سو برس پہلے درخت لگانے پر اُس وقت زور دیا تھا جب کہ ابھی سائنس نے ہائیڈروجن اور آکسیجن گیس کی دریافت نہیں کی تھی۔درخت آکسیجن گیس جو ہماری ضرورت کی چیز ہے اُس کو دن کے وقت باہر نکالتا ہے اور جو ہماری ضرورت کی گیس نہیں یعنی کاربن ڈائی آکسائیڈ اس کو وہ حاصل کرتا ہے۔اسکے علاوہ صحت قائم رکھنے کے لئے بہت سارے کام ہیں جو اللہ تعالیٰ نے درختوں کے سپرد کئے ہوئے ہیں مثلاً یوکلپٹس کا درخت ہے۔ملیریا کو دور کرنے کے لئے ، میرے اندازے کے مطابق یہ اس سے زیادہ کام کرتا ہے جتنا ہماری حکومت کا محکمہ انسداد ملیر یا کام کرتا رہا ہے۔یہ مچھر مارتا ہے اور اس کے جو پتے ہیں ان سے تیل نکالتے ہیں جو نزلے اور انفلوئنزا کی بیماریوں کے علاج کیلئے مختلف شکلوں میں استعمال ہوتا ہے۔ہومیو پیتھی کی شکل میں بھی اور ایلو پیتھی کی شکل میں بھی۔طب یونانی کے متعلق تو مجھے علم نہیں کہ وہ اس کا استعمال کرتے ہیں یا نہیں۔میرا خیال ہے وہ بھی اب اس کا استعمال کرنے لگ گئے ہوں گے۔غرض یہ بڑا مفید درخت ہے۔اس کی ایک بڑی خوبی یہ ہے کہ یه کلر یعنی شور (جور بوہ میں پہلے زیادہ تھا اور اب بھی کہیں کہیں نظر آیا کرتا ہے ) اس کی غذا ہے۔دوسرے اللہ تعالیٰ کی حکمت کا ملہ نے اس کو یہ عقل دی ہے اور اسے یہ الہام کیا ہے کہ اگر نچلی زمین سخت ہو اور اسکی جڑیں نیچے زمین میں نہ جاسکیں تو اس کو کہا ہے کہ اپنی صحت مند زندگی کیلئے اپنی جڑوں کو سطح زمین کے اوپر پھلا دو حالا نکہ عام درخت ایسا نہیں کرتے اور اسی لئے بعض لوگوں نے ایک عام اصول بنایا ہوا ہے کہ درخت جتنا بلند ہو گا اتنی ہی اس کی جڑ نیچے زمین میں جاتی ہے یہ بھی صحیح ہے لیکن اگر یوکلپٹس کو اللہ تعالیٰ کا حکم نہ ہوتا تو یہ ربوہ میں نہ لگ سکتا۔میں نے کالج میں شروع میں کئی قسم کے درخت لگوائے تھے اکثر مر گئے جو ان میں سے بچے ان میں اکثر یوکلپٹس کے پودے تھے۔میں نے پھر ایک وقت میں مشاہدہ کیا کہ یہ درخت جڑیں گہرائی میں لے جانے کی بجائے سطح زمین پر جڑیں پھیلا دیتا ہے اور ہمارا یہ بھی مشاہدہ تھا کہ اس علاقے میں خصوصاً اور ربوہ میں عموماً ہماری زمین میں ۲ ، ۳ فٹ کے بعد ایک تہہ آتی ہے جو بڑی سخت ہوتی ہے اور بعض جگہ وہ