خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 551 of 640

خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 551

خطبات ناصر جلد چہارم ۵۵۱ خطبہ جمعہ یکم دسمبر ۱۹۷۲ء کیا۔وہ یہاں چھ مہینے یا سال رہے اور ہمیں لاکھ روپیہ خرچ کر دیا اور دوسطروں میں اپنی رپورٹ لکھ کر چلے گئے کہ یہاں یوکلپٹس کے سوا اور کوئی درخت نہیں لگ سکتا۔انہی دنوں محکمہ زراعت کے ایک بڑے افسر جو میرے واقف تھے وہ مجھے ملنے کے لیے آئے تو میں نے چونکہ یوکلپٹس کے متعلق تجربہ کیا ہوا تھا میں نے اُن سے کہا کہ آپ نے خواہ مخواہ آسٹریلیا والوں کو تکلیف دی۔مجھ سے پوچھ لیتے کیونکہ میرا یہی مشاہدہ ہے کہ جو حالات انہوں نے بتائے اُن میں ایسی جگہوں پر یو کلیپٹس ہی لگ سکتا ہے اور کوئی درخت پورا صحت مند نہیں رہ سکتا۔پس جہاں تک الف محلے کی زمین کا تعلق ہے ( بعض دوسرے محلوں کی زمین بھی اسی قسم کی ہے ) اس میں یوکلپٹس کے درخت لگنے چاہئیں اگر اس محلے کے مکینوں کی صحت کو ہم نے بحال رکھنا ہے اور ان کو قومی امین بنانے کی کوشش کرنی ہے تو پھر ہماری یہ اجتماعی ذمہ داری ہے کہ ان کی صحت ایسی ہو جس کا قرآن نے بڑے حسین پیرا یہ میں دو لفظوں میں ذکر فرمایا ہے کہ جس نے کام کرنا ہو اور کامیاب ہونا ہوا سے قوی بھی ہونا چاہیے اور امین بھی ہونا چاہیے۔پس اگر ہم نے یہ امید رکھنی ہو کہ ہر احمدی اس عظیم ذمہ داری کو اٹھانے اور نباہنے کے قابل ہوگا جو اللہ تعالیٰ نے غلبہ اسلام کی خاطر اس کے کندھوں پر ڈالی ہے تو یہ امید تبھی پوری ہو سکتی ہے کہ جب جماعت اجتماعی رنگ میں اور ہر احمدی کو انفرادی طور پر جتنی اللہ تعالیٰ نے طاقت اور قوت بخشی ہے اس کے مطابق اس کی انتہائی نشوونما ہو۔اس وقت انسان پر انتہائی بوجھ ڈال دیا گیا ہے۔ساری دنیا میں اسلام کو غالب کرنا کوئی کھیل تو نہیں ساری دنیا میں کسی مذہب کو غالب کرنا یہ صرف مسلمان پر فرض ہوا کیونکہ پہلے مذاہب تو ساری دنیا کے لیے تھے ہی نہیں۔چھوٹے چھوٹے شہروں کے لیے پھر علاقوں کے لئے اور پھر ملکوں کے لئے انبیاء آئے جیسے جیسے حالات بدلتے رہے اللہ تعالیٰ کی حکمت نے جو تقاضہ کیا وہ اسے پورا کرتے رہے لیکن یہ ایک حقیقت ہے کہ اسلام سے پہلے کوئی ایسی جماعت یا گروہ یا قوم نہیں گزری کہ جس کی ذمہ داری ہو کہ وہ مذہب کو ساری دنیا میں پھیلائے اور غالب کرے یہ ذمہ داری اُمت مسلمہ پر پہلی اور آخری دفعہ ڈالی گئی اور اسی لئے حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم آخری نبی ہیں جو بنی نوع انسان کو بلند تر رفعتوں تک لے گئے۔پس ہم پر یہ ذمہ داری ڈالی گئی ہے کہ ساری دنیا