خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 531
خطبات ناصر جلد چہارم ۵۳۱ خطبه جمعه ۲۴ / نومبر ۱۹۷۲ء آپ فرماتے ہیں کہ اصل شفا اس وقت ملتی ہے جب اللہ تعالیٰ کا حکم دونوں پر نازل ہوتا ہے یعنی دوا پر بھی اور جسم پر بھی۔ڈاکٹر جس مریض کو لا علاج قرار دیتا ہے اس کا مطلب اسلامی اصطلاح میں صرف اتنا ہے کہ اس مریض کے جسم کے ذرات دوا کے اثر کو قبول کرنے سے انکار کر رہے ہیں لیکن جب انسان اللہ تعالیٰ سے دعائیں مانگتا اور اس کے حضور عاجزانہ رنگ میں جھکتا اور اس سے شفا کا طالب ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ اگر چاہے تو اس کے جسم اور جسم کے ذروں پر حکم نازل کرتا ہے کہ وہ دوا کے اثر کو قبول کریں چنانچہ اس طرح انسانی جسم میں دوا کے قبول کرنے کی خاصیت عود کر آتی اور بیمار کو شفامل جاتی ہے۔پس یہ کہنا کہ چونکہ اللہ تعالیٰ شافی ہے اسلئے کسی دوا کے استعمال کی ضرورت نہیں اسلامی تعلیم سے ناواقفیت کی دلیل ہے۔ایسے لوگ دائیں طرف جھکنے والے ہوتے ہیں وہ ظاہر میں تو توحید کے قائل ہوتے ہیں لیکن اندرونی طور پر اور باطنی لحاظ سے مشرک ہوتے ہیں کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ دوائیاں وغیرہ اپنے آپ ہی آگئی ہیں خدا کی منشاء اور اس کی حکمت کا ملہ نے ان کو پیدا نہیں کیا ایسا سمجھنا غلط ہے دوسری طرف وہ لوگ ہیں جو اللہ تعالیٰ کو نہیں مانتے یا وہ حقیقی توحید پر قائم نہیں ہوتے وہ کہتے ہیں کہ بس دوا کھالی۔آرام آجائے گا لیکن صرف دوا پر بھروسہ کرنا بھی صحیح نہیں ہے۔ویسے اگر خدا تعالیٰ نے شفادینی ہو تو وہ مٹی کی چنکی میں شفار کھ دیتا ہے ہم نے خودا پنی زندگی میں دیکھا ہے کہ سخت تکلیف میں مبتلا بلکہ تڑپتے ہوئے مریض کو مٹی کی ایک چٹکی دی گئی اور اسے آرام آگیا اور پھر ہم نے یہ بھی دیکھا کہ ایک ہی نسخہ ایک دعا گو طبیب دیتا ہے تو مریض کو شفا ہو جاتی ہے اور ایک غافل شخص جس کو تو حید کا علم نہیں ہوتا اور وہ دعاؤں سے کام نہیں لیتا وہی نسخہ اور وہی دوا دیتا ہے لیکن مریض کو شفا نہیں ہوتی۔حضرت میر محمد اسمعیل صاحب رضی اللہ عنہ ہمارے والد حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کے ماموں تھے۔ہم سب بھی انہیں ماموں جان ہی کہا کرتے تھے وہ ایک دفعہ شملہ میں تھے خود مریض بھی تھے مگر طبیعت میں استغناء تھا پیسے کا لالچ نہیں تھا۔طبیعت خراب ہوتی تھی تو وہ اپنے کمپاؤنڈر سے کہتے تھے کہ وہ مریض کو دیکھنے چلا جائے۔کمپاؤنڈ ر کو بھی وہی نسخے یاد تھے جو حضرت میر صاحب دیا کرتے تھے لیکن مریض آکر کہتے تھے