خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 532
خطبات ناصر جلد چہارم ۵۳۲ خطبه جمعه ۲۴ نومبر ۱۹۷۲ء / کہ آپ خود دوائی لکھ کر دیں۔کمپاؤنڈر نے جو دوائی لکھ کر دی ہے اس سے آرام نہیں آیا حالانکہ دوائی ایک ہی ہوتی تھی۔غرض کمپاؤنڈر نے دوائی تو وہی دی لیکن اس نے وہ دعا نہیں کی جو حضرت میر صاحب رضی اللہ عنہ مریض کے لئے کیا کرتے تھے چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ایک موقعہ پر یہ ہدایت فرمائی ہے کہ بڑا ظالم ہے وہ ڈاکٹر اور طبیب جو اپنے مریض کے لئے دعا نہیں کرتا۔ظالم اس لئے ہے کہ وہ سمجھتا ہے کہ صرف دوائی سے آرام آجائے گا یا اس کی طبی مہارت مریض کے کام آجائے گی۔ڈاکٹر کی مہارت اور دوا اس مریض کے کام آتی ہے جب اللہ تعالیٰ آسمانوں سے ایسا حکم نازل کرتا ہے ورنہ وہ فائدہ نہیں کرتی۔پس بائیں طرف جھکنے والے مریض سمجھتے ہیں کہ بس دوالے لی ہے دعا کرنے کی ضرورت نہیں ہے یا اللہ تعالیٰ کے فضل کی ضروت نہیں ہے لیکن جو شخص مومن ہے اور راہ راست اور صراط مستقیم پر چلنے والا ہے۔وہ دوا کھاتا بھی ہے اور دوا پر بھروسہ بھی نہیں رکھتا۔وہ دوا اس لئے کھاتا ہے کہ اس کے رب نے اسے کہا کہ تیرے لئے یہ دوا پیدا کی گئی ہے تو اسے استعمال کر۔دوا تدبیر ہے اور دعا اللہ تعالیٰ کے رحم کو جذب کرتی ہے جو شخص بیماری کی حالت میں دوا استعمال کرتا ہے اور اپنے رب کے حضور عاجزانہ جھکتا ہے اسے اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے شفا بخشتا ہے۔پس میں اپنی جماعت کو خصوصاً اور تمام بنی نوع انسان کو عموماً یہ نصیحت کرتا ہوں کہ وہ امراض کی تکالیف سے ، ان کے نتائج سے جو بسا اوقات موت کی شکل میں یا فالج کی شکل میں یعنی بعض دفعہ جسم کے معین حصے کام کرنا چھوڑ دیتے ہیں مثلاً جگر مستقل طور پر خراب ہو جاتا ہے۔ان سے بچنے کے لئے ضروری ہے کہ دوا کے علاوہ انسان اللہ تعالیٰ کے حضور جھکے۔اس سلسلہ میں میں اپنے احمدی دوستوں سے بالخصوص یہ کہوں گا کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں حسب استعداد معرفت و عرفانِ ذات وصفات باری عطا فرمایا ہے اس لئے نہ صرف خود بیماریوں سے بچنا ہے بلکہ دوسروں کو راہ راست کی طرف لانا بھی ہمارا فرض ہے اس لئے جہاں دواؤں کو استعمال کرو وہاں دواؤں پر بھروسہ بھی نہ رکھو کیونکہ دوائیں استعمال نہ کرنا خدا تعالیٰ کی ناشکری ہے اور دواؤں پر کلی بھروسہ رکھنا اللہ تعالیٰ کی توحید کے خلاف ہے۔اس لئے صراط مستقیم کو اختیار کرو۔دواؤں وغیرہ کو