خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 530
خطبات ناصر جلد چہارم ۵۳۰ خطبه جمعه ۲۴ / نومبر ۱۹۷۲ء لئے استعمال کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ دوا کو استعمال کر و آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآن کریم کے مضامین کی تفسیر میں فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہر بیماری کے لئے دوا پیدا کردی ہے۔آخر دوا کا تعلق بھی تو اس مادی جسم کے ساتھ ہے اور جسم کی دیگر ضروریات کے لئے اللہ تعالیٰ نے مختلف قسم کی ہزاروں لاکھوں چیزیں پیدا کی ہیں۔مثلاً مختلف قسم کے کھانے پیدا کئے ان میں توازن پیدا کرنے کے لئے مختلف قسم کی اشیاء پیدا کیں۔اس نے ہمارے لئے کپڑے پیدا کئے کپڑے بنانے کے لئے روئی پیدا کی۔اس نے چودہ چودہ پندرہ پندرہ ہزارفٹ بلند پہاڑوں پر رہنے والی بھیڑیں پیدا کیں جن پر بہت باریک اور گرم اون ہوتی ہے جسے پشمینہ کہتے ہیں۔اب یہ اللہ تعالیٰ کی قدرت کا کرشمہ ہے جہاں برف پڑتی ہے اس کے نیچے نیچے ڈھلوانوں میں بھیڑیں پرورش پاتی ہیں جن کی اون ایک تو خود ان کو گرم رکھنے اور دوسرے انسان کو گرمی پہنچانے کا بھی کام دیتی ہے۔بعض دفعہ عمر کے بعض حصوں میں بعض طبائع ایسی بھی ہوتی ہیں جو بھاری کپڑوں کا بوجھ برداشت نہیں کر سکتیں کسی زمانہ میں میں سردیوں کے دنوں میں بڑا اوزنی کوٹ پہن لیا کرتا تھا۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ نے مجھے ایک کوٹ دیا تھا جو بڑا موٹا اور وزنی تھا۔چنانچہ کچھ عرصہ تک میں نے وہ کوٹ بھی استعمال کیا تھا مگر اب میرے کندھوں کے اعصاب اور عضلات موٹی چیز کا بوجھ برداشت نہیں کرتے۔میں اپنی بات کر رہا ہوں۔مجھے کپڑوں میں ایسی ہلکی چیز کی ضرورت ہوتی ہے جو گرم بھی ہو اور کم وزن بھی ہو۔اس قسم کی چیز کی مجھے تلاش کرنی پڑتی ہے ورنہ پھر ٹھنڈ لگنے کا خطرہ ہوتا ہے۔غرض جب اس مادی جسم کے آسائش و آرام کے لئے اللہ تعالیٰ نے ہزاروں لاکھوں اشیاء پیدا کی ہیں اور اس جسم کو بیماری کے اثرات سے بچانے کے لئے اس نے دوا بھی پیدا کی ہے۔چنانچہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو اور اپنے بندہ کو جو اس کی قدرتوں پر ایمان لاتا ہے یہ فرمایا ہے کہ میں نے تیرے لئے ہر بیماری کی دوا پیدا کی ہے۔تو ضرورت کے وقت اسے استعمال کر لیکن اس کا فائدہ تبھی ہو گا جب تو ساتھ ہی مجھ سے میری رحمت کا طالب ہوگا۔تب میں دوا کو حکم دوں گا کہ وہ تجھ پر اثر کرے اور تیرے جسم کو حکم دوں گا کہ وہ دوا کے اثر کو قبول کرے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس مسئلہ پر بڑی تفصیل سے روشنی ڈالی ہے۔