خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 441
خطبات ناصر جلد چہارم ۴۴۱ خطبہ جمعہ ۲۹ ستمبر ۱۹۷۲ء کا فضل ہے کہ ہمیں بحیثیت جماعت ایک اعلیٰ مقام حاصل ہے۔یہ مقام ہمیں خدا کے فضل اور اس کے رحم کے ساتھ ہی ملا ہے غرض میں مخلصین جماعت کی بات نہیں کر رہا۔میں جماعت کے کمزور لوگوں کی بات کر رہا ہوں لیکن چونکہ ہمیں یہ الہی حکم ہے وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللَّهِ جَمِيعًا یعنی بغیر استثناء کے تم سب کے سب خدا کی رسی کو مضبوطی سے پکڑ لو اور اس کی پناہ میں آ جاؤ اس لئے میں نے استثناء کا ذکر کیا ہے۔اس غرض سے کہ یہ استثناء بھی جماعت میں نہیں رہنے چاہئیں یا تو ان کی اصلاح ہو جانی چاہیے اور یا ان کو چاہیے کہ وہ خود ہی جماعت کو چھوڑ دیں۔ہمارا اس شخص سے آخر کیا واسطہ ہے جو خدا کی آواز کو نہیں سنتا۔جو اعتصام باللہ نہیں کرتا۔جو تقویٰ کی راہوں کو اختیار نہیں کرتا اور جو شیطانی تفرقے کی راہوں کو اختیار کرتا ہے ہمارا اس کے ساتھ کوئی تعلق نہیں۔اللہ تعالیٰ نے جَمِيعًا فرما کر سب کے اوپر ذمہ داری ڈالی ہے۔اس لئے ساری جماعت کا یہ فرض ہے کہ جہاں کہیں بھی اس قسم کا گند اور بھیا نک استثناء نظر آئے اس آدمی کو سمجھا ئیں اور اس طریق سے سمجھا ئیں جو اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں بیان فرمایا ہے اور جس کے متعلق اس نے فرمایا ہے کہ وہ احسن اور پر حکمت ہونا چاہیے یعنی ایسے لوگوں کی اصلاح کے لئے سب سے اچھا طریق اختیار کرنا چاہیے تاہم ایسے استثنائی احمدیوں کو یہ معلوم ہونا چاہیے کہ اگر وہ اپنی اصلاح نہیں کرتے تو جماعت احمدیہ میں ان کی کوئی جگہ نہیں ہے اور اللہ تعالیٰ کے پیار میں اُن کا کوئی حصہ نہیں ہے۔پس جماعت کو سارے تفرقے مٹا کر یکجان ہو جانا چاہیے جس طرح جسم کے اعضاء ہوتے ہیں اسی طرح انہیں آپس میں متحد ہو جانا چاہیے۔دوستوں کو یاد ہوگا میں نے ۱۹۶۷ء میں اپنے یوروپ کے دورے میں اس سوال کے جواب میں (جواز راہ شرارت کیا گیا تھا اور جس کا اسی وقت اللہ تعالیٰ نے جواب سمجھا دیا تھا ) یہ کہا تھا کہ خلیفہ وقت اور جماعت ایک ہی وجود کے دو نام ہیں۔حقیقت بھی یہی ہے اور سوال کا جواب بھی یہی تھا مثلاً زید یا بکر یا عبداللہ یا اسماعیل یا داؤ د مختلف ناموں سے مردامتہ اللہ یا امتۃ الرفیق یا نصرت جہاں یا آمنہ یا خولہ قسم کے ہزاروں نام ہیں جن سے عورتیں پکاری جاتی ہیں۔لوگوں کے یہ نام دراصل حقیقت کے ایک پہلو پر روشنی ڈالنے کے لئے رکھے جاتے ہیں لیکن حقیقت کا ایک پہلو ساری کی ساری حقیقت کو چھپا نہیں دیا کرتا۔پوری