خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 442
خطبات ناصر جلد چہارم ۴۴۲ خطبہ جمعہ ۲۹ ستمبر ۱۹۷۲ء حقیقت یہی ہے کہ جماعت کا ایک وجود ہے مثلاً ہمارے ہاتھ کی ( چار انگلیاں اور ایک انگوٹھامل کر پانچ انگلیاں ہوتی ہیں۔جس طرح کسی شخص کا انگلی کہنے کا یہ مطلب نہیں ہوتا کہ وہ اس کے وجود کا حصہ نہیں ہے اسی طرح زید یا بکر کہنے کا یہ مطلب نہیں ہے کہ وہ شخص جماعت کے وجود کا حصہ نہیں ہے۔پس میں جماعت سے ایک بار پھر یہ کہتا ہوں کہ تم ہر قسم کے تفرقوں کو مٹا دو کیونکہ اس کے بغیر تمہیں اللہ تعالیٰ کی برکتیں نہیں مل سکتیں۔یہ وقت اتحاد اور اتفاق کا ہے یہ وقت ملک کی پجہتی اور سلامتی کے لئے قربانیاں دینے کا ہے۔تباہی کی آگ شعلہ زن ہے ہر سوفتنہ و فساد نظر آ رہا ہے۔پس ایسی صورت میں ہمارے دلوں میں اتحاد کے اس جذ بہ کو یکجہتی کی اس روح کو اور ایک وجود ہونے کے اس احساس کو پہلے سے بھی زیادہ جوش مارنا چاہیے جس کی اللہ تعالیٰ نے ہمیں ان آیات کریمہ میں تعلیم دی ہے۔ہماری جماعت پر بہت بڑی ذمہ داری عاید کی گئی ہے۔اس نے خود سلامت رہنا ہے اور دنیا کو سلامتی بخشنی ہے۔اس لئے تم اپنی سلامتی کے لئے اور اس مقصود کے حصول کے لئے جس کے لئے تم به حیثیت جماعت پیدا کئے گئے ہو یعنی غلبہ اسلام کے لئے اپنے سارے اختلافات کو مٹا کر اور لڑائی جھگڑوں کو دور کر کے ایک ہو جاؤ۔میں نہیں کہہ سکتا کہ کل آپ سے اللہ تعالیٰ کیا قربانی لے گا لیکن آج میں یہ بتا سکتا ہوں کہ آگ بھڑ کی ہوئی ہے۔یہ ہلاکت کی آگ ہے جس سے اللہ تعالیٰ کے فضل کے بغیر بچنا مشکل ہے۔پس قرآن کریم کی زبان میں میں تم سے یہ کہوں گا وَ اعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللَّهِ جَمِيعًا وَلَا تَفَرَّقُوا (ال عمران : ۱۰۴) تم سب کے سب اللہ تعالی کی رسی کو مضبوطی سے پکڑ لو اور پراگندہ مت ہو۔اسی طرح میں یہ بھی کہوں گا کہ تم حَقَّ تُقتِه (ال عمران : ۱۰۳) کی رو سے تقویٰ اللہ کو اس کی تمام شرائط کے ساتھ اختیار کرو تا کہ تم خدا تعالیٰ کے غضب کی آگ سے بچ جاؤ اور اگر یہ آگ اس کی طرف سے بطور امتحان کے ہے تو تم اس میں کامیاب ہو جاؤ اور اللہ تعالیٰ کی زیادہ