خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 440 of 640

خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 440

خطبات ناصر جلد چہارم ۴۴۰ خطبه جمعه ۲۹ ستمبر ۱۹۷۲ء پس ہماری جماعت کے ہر مرد و زن کا یہ فرض ہے کہ وہ محض زبانی دعوی پر انحصار نہ کریں کیونکہ اللہ تعالیٰ کی برکتیں اور رحمتیں زبانی دعووں سے حاصل نہیں ہوا کرتیں۔وہ تو عمل کو دیکھتا ہے۔اس کی نظر تو انسان کے دل کی گہرائیوں تک پہنچتی ہے اور وہاں نیکی اور طہارت کو تلاش کرتی ہے۔اگر اللہ تعالیٰ کو انسان کے دل میں خلوص اور باطنی پاکیزگی نظر آ جائے تو وہ اس سے پیار کرتا اور اسے اٹھا کر اپنی گود میں بٹھا لیتا ہے اگر انسان کے اندر ان چیزوں کا فقدان ہو تو وہ اس کے ظاہری دعووں کی کوئی پرواہ نہیں کرتا بلکہ انہیں شیطان کی ایک شکستہ وخستہ، گندی اور سڑی ہوئی چیز سمجھ کر پرے پھینک دیتا ہے۔پس میں جماعت احمدیہ کے ہر چھوٹے اور بڑے ، ہر جوان اور بوڑھے اور ہر مرد اور عورت سے کہتا ہوں کہ تم بھی اپنے نفس کا محاسبہ کروتا ایسا نہ ہو کہ آج ملک میں جو فتنہ فساد ہمیں نظر آ رہا ہے تباہی اور انتشار کی بھڑکتی ہوئی جس آگ کو ہم دیکھ رہے ہیں ، اس کے شعلوں کی لپیٹ میں ہم میں سے بھی کوئی آجائے کیونکہ بسا اوقات جو ظالم نہیں ہوتا وہ بھی اس کی لپیٹ میں آجاتا ہے۔اس کا بھی قرآن کریم نے ذکر فرمایا ہے وہ ایک اور مضمون کے ضمن میں ہے اس کی تفصیل میں میں اس وقت نہیں جا سکتا۔میرے سامنے اب بڑی کثرت سے یہ باتیں آنے لگ گئی ہیں کہ بعض خاندانوں یا بعض افراد میں دنیا داری زیادہ آگئی ہے۔ابھی کل ہی میں ایک خط پڑھ رہا تھا اس میں لکھا تھا کہ خاوند کا بیوی سے اس بات پر جھگڑا ہو گیا ہے کہ بیوی زیادہ جہیز نہیں لائی۔میرا شرم کے مارے سر جھک گیا۔میں کہتا ہوں جب تم نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ہاتھ پر بیعت کر کے حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قدموں کو پکڑ لیا تو پھرا اپنی بیوی سے یہ کیوں کہتے ہو کہ چونکہ تو جہیز ہمارے مطلب کا لے کر نہیں آئی اس لئے ہم تجھے تنگ کریں گے۔“ اسی طرح بعض عورتیں اپنے خاوندوں کو تنگ کرتی ہیں۔بعض امیر لوگ ہیں جو اپنے غریب بھائیوں کو تنگ کرتے ہیں یا ان کی عزت نفس کا خیال نہیں رکھتے۔تاہم میں بعض لوگوں کا ذکر کر رہا ہوں جو اس قسم کی باتیں کرتے ہیں ورنہ یہ اللہ تعالیٰ