خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 421 of 640

خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 421

خطبات ناصر جلد چہارم ۴۲۱ خطبه جمعه ۸ ستمبر ۱۹۷۲ء بہت اونچی اُٹھتی دنیا کو نظر آرہی ہوتی ہیں۔اس وقت بھی جماعت کے بعض لوگ کمزوری دکھاتے ہیں۔کیونکہ شیطان تو کسی وقت غافل نہیں ہوتا۔وہ بعض لوگوں کے دلوں میں تکبر پیدا کر دیتا ہے۔وہ کہتا ہے تم نے اپنی طاقت، اپنی فراست اور اپنے ہنر سے یہ سب کچھ حاصل کیا ہے۔یہ بھی بڑے خطرے کا مقام ہے۔غرض ہر دو مقام بڑے خطرہ کے ہیں کمزوری کے وقت شیطان سے ڈرنا یہ بھی خطرے کا مقام ہے اور طاقت کے وقت اپنے نفس کو خدا بنالینا اور تکبر کی راہوں کو اختیار کرنا یہ بھی خطرہ کا مقام ہے۔دراصل نہ کمزوری کے وقت شیطان سے ڈرنا چاہیے اور نہ طاقت کے وقت اپنے نفس کو خدا بنالینا اور نہ اپنے دوستوں کو خدا سمجھنا چاہیے۔اس حقیقت اور اس صداقت پر ہمیشہ قائم رہنا ہے کہ جہاں تک ہماری ذات کا تعلق ہے ہماری حیثیت مردہ کیڑے کے برابر بھی نہیں ہے۔اگر ہم کچھ ہیں تو محض اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہیں اگر اس کا فضل اور رحمت ہمارے شامل حال نہ ہو تو ہم کچھ بھی نہیں۔پھر تو ہمارا دشمن بڑی آسانی کے ساتھ ہمیں پاؤں کے نیچے اسی طرح مسل سکتا ہے جس طرح افریقہ کا وحشی بھینسا جب غصہ میں آتا ہے تو وہ اپنے دشمن کو اس طرح لتاڑتا ہے کہ اس کی ہڈیوں تک کو پیس کر ذرے ذرے بنا کر مٹی میں ملا دیتا ہے۔اگر اللہ تعالیٰ کا فضل اور اس کی رحمت میرے اور تمہارے شامل حال نہ ہو اللہ تعالیٰ کا سہارا اور مدد حاصل نہ ہو تو اس وقت جب تم میں سے بعض لوگ بڑے فخر سے اپنی گردنیں اُٹھا رہے ہوتے ہیں اس وقت بھی دشمن میں اتنی طاقت ضرور ہوتی ہے کہ وہ اس وحشی بھینسے کی طرح ہمارے گوشت اور ہڈیوں کا قیمہ بنا کر مٹی میں ملا دے اور پھر ہوا کا جھونکا آئے اور اس غبار کو اُڑا کر لے جائے۔پس یہ بھی خطرہ کا مقام ہے اس سے بھی جماعت کو بچنا چاہیے۔اب مثلاً گذشتہ سال ڈیڑھ سال میں سیاسی میدان میں بھی اللہ تعالیٰ نے فضل کیا۔جن لوگوں کے ساتھ جماعت کی اکثریت تھی وہ کامیاب ہو گئے۔لیکن اگر کوئی احمدی یہ سمجھتا ہے کہ اب ہم کامیاب ہو گئے ہیں اب ہم کچھ بن گئے ہیں تو یہ اس کی بڑی حماقت ہوگی۔بعض دفعہ لوگ میرے پاس بھی آجاتے ہیں کہ سفارش کر دیں مجھے اس سے بڑی تکلیف ہوتی ہے اور مجھے ان پر