خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 420 of 640

خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 420

خطبات ناصر جلد چہارم ۴۲۰ خطبه جمعه ۸ ستمبر ۱۹۷۲ء نے کامیاب ہونا ہے۔یہ اللہ تعالیٰ کی تقدیر ہے جو جماعت احمدیہ کے ذریعہ انشاء اللہ پوری ہوگی۔جیسا کہ الہی سلسلوں میں پہلے بھی کچھ لوگ کمزوری دکھاتے تھے اب اس وقت بھی بعض لوگ کمزوری دکھاتے ہیں تا ہم اللہ تعالیٰ سہارا دیتا ہے وہ اُن سے اکثر کو بچا لیتا ہے۔جس وقت دشمن بڑے زوروں پر ہوتا ہے۔اس وقت لوگ دو قسم کی کمزوریاں دکھاتے ہیں ( یا اگر منافقوں کو بھی شمار کر لیا جائے تو تین قسم کے لوگ کمزوریاں دکھاتے ہیں لیکن میں اس وقت منافقوں کو شمار نہیں کرتا ) ایک تو یہ کمزوری کہ وہ ارتداد اختیار کر لیتے ہیں۔دوسری یہ کمزوری کہ بعض لوگ زبانی طور پر صداقت کا انکار کرتے ہیں لیکن دل میں پختہ ایمان رکھتے ہیں کہ صداقت یہی ہے اور اسلام کا اصلی چہرہ وہی ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے دکھایا ہے۔لیکن جسمانی اور روحانی کمزوری کے نتیجہ میں وہ اظہارِ حقیقت میں کمزوری دکھاتے ہیں جس کی کمزور انسان کو کسی حد تک اجازت بھی دی گئی ہے۔یہ فی الواقعہ کمزوری تو ہے لیکن حالات کی مجبوری کے نتیجہ میں نہ قرآن کریم اور نہ قرآن کریم کے خدا نے ایسے لوگوں کو برا بھلا کہا ہے اس لئے ہم بھی ایسے لوگوں کو برا نہیں کہتے البتہ کمزور ایمان ضرور کہتے ہیں۔ان کے برعکس جو لوگ ارتداد اختیار کرتے ہیں وہ چونکہ پہلے ہی کمزور ایمان والے ہوتے ہیں۔الہی سلسلہ کی مخالفت اور مختلف قربانیوں کا بوجھ برداشت نہیں کر سکتے اس لئے وہ اس سلسلہ ہی کو چھوڑ دیتے ہیں۔ایسی صورت میں شیطان کے اولیاء یعنی دوست بڑے خوش ہوتے ہیں کہ فلاں نے ارتداد اختیار کر لیا ہے۔چنانچہ اس سلسلہ میں قرآن کریم نے ہمیں یہ کہہ کر بڑی تسلی دی ہے۔فرمایا یہ نہ دیکھنا کہ ایک یا دو نے ارتداد اختیار کر لیا ہے بلکہ یہ دیکھنا ان دنوں قوم نے ایمان اختیار کیا ہے یا نہیں؟ اللہ تعالیٰ کی جو نصرت جماعت احمدیہ یا اسلام کو ہمہ وقت ترقی کی طرف لے جا رہی ہے اس میں کوئی رخنہ یا کمی تو واقع نہیں ہوئی۔جو لوگ ارتداد اختیار کرتے ہیں وہ بدقسمت ہیں۔وہ اللہ تعالیٰ کی رحمت سے محروم ہو جاتے ہیں لیکن جماعت اللہ تعالیٰ کی رحمتوں سے محروم نہیں ہوتی۔دوسرے جس وقت جماعت بظاہر کامیاب ہو رہی ہوتی ہے۔جماعت کی ترقی کی لہریں