خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 422 of 640

خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 422

خطبات ناصر جلد چہارم ۴۲۲ خطبه جمعه ۱۸ ستمبر ۱۹۷۲ء بڑا غصہ آتا ہے۔اسلام کے ذریعہ اور اب اسلام کے عظیم روحانی جرنیل حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ذریعہ تمہیں خدا اور اس کی صفات سے روشناس کیا گیا ہے۔مگر اس کے باوجود تم خدا کو چھوڑ کر سفارشوں کی طرف متوجہ ہوتے ہو۔اس لئے کہ سیاسی میدان میں بظاہر ایک چھوٹی سی فتح تمہیں حاصل ہو گئی ہے۔ایک احمدی کا یہ مقام نہیں ہے اُسے خود خدا تعالیٰ کو قاضی الحاجات سمجھنا چاہیے اور جو غیر ایسا نہیں سمجھتے ان کو سمجھانے کی کوشش کرنی چاہیے۔ہر سہ شیخ کے ایک بڑے زمیندار تھے۔اُن کے آباؤاجداد میں ایک بڑے بزرگ گزرے ہیں یہ ان کی اولاد میں سے تھے۔وہ روحانی طور پر بزرگ، یہ جسمانی اور دنیوی طور پر زمینوں والے تھے۔وہ جوان کے بزرگ تھے ان کی قبر پر چڑھاوے بھی چڑھتے تھے اُنہوں نے کچھ مجاور رکھے ہوئے تھے ان سے یہ اپنا حصہ لیا کرتے تھے۔گاؤں میں ایک دوسرے کے ساتھ دشمنیاں ایک عام بات ہے۔چنانچہ ان کے دشمنوں نے مجاوروں کو اُکسا یا تو انہوں نے ان کو حصہ دینا بند کر دیا۔نوبت مقدمہ تک جا پہنچی۔چنانچہ ان کا مقدمہ جب سیشن جج تک کی عدالت میں گیا تو وہ ایک دن میرے پاس آگئے کہ آپ میری سفارش کر یں۔میں نے اُن سے کہا ہم آرام سے قادیان میں بیٹھے ہوئے تھے۔ہمیں اللہ تعالیٰ نے وہاں سے اُکھاڑ کر ربوہ میں اس لئے آباد نہیں کیا کہ تمہارے پاس پہلے ایک سو سفارشی تھا تو اب ایک سو ایک ہو جائے۔تمہیں تو سفارش کروانے کی گویا عادت پڑی ہوئی ہے ہم تو کسی اور مقصد کے لئے تمہارے علاقے میں بھیجے گئے ہیں۔چنانچہ میں نے ان کو تو حید باری تعالیٰ کے متعلق مختصراً بتایا اور کہا دعا کرو خدا تعالیٰ پر توکل رکھو یہ نہ کہو کہ ہمیں حصہ ملے بلکہ اُس کے حضور دعا کرو کہ اگر ہمارا حق ہے تو ہمیں مل جائے مگر وہ کہاں سمجھنے والے تھے وہ تو تو حید حقیقی کو پہچانتے ہی نہیں۔میں بڑا تنگ آیا۔آخر میں نے اُن سے کہا آپ لکھ کر دے جائیں۔جو کچھ مجھ سے ہو سکا میں کروں گا۔اُنہوں نے مجھے ایک کاغذ پر لکھ کر دیا۔میں نے دعا کی کہ اے خدا! اگر ان کا حق ہو تو مل جائے اور اگر نہیں تو نہ ملے۔تجھے اصل حقیقت کا پتہ ہے مجھے تو اس کا علم نہیں ہے۔