خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 311 of 640

خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 311

خطبات ناصر جلد چہارم خطبہ جمعہ ۲۱؍ جولائی ۱۹۷۲ء اَحْسَنَ فِي فِعْلِه “ کہا جائے تو اس سے مراد ایسا شخص ہوتا ہے۔66 إِذَا عَلِمَ عِلْمًا حَسَنًا وَعَمِلَ عَمَلًا حَسَنًا ، یعنی وہ حسین علم رکھتا ہو اور حسین عمل کرنے والا ہو اور حسن عمل خدا داد استعدادوں کی تدریجی نشو ونما کو چاہتا ہے۔حسن کا سر چشمہ اور منع اللہ تعالیٰ کی ذات ہے۔اس سے تعلق پیدا کیا جا سکتا ہے مگر اس کے لئے سخت مجاہدہ انتہائی محنت درکار ہے۔اس محنت کے ذریعہ طاقتوں کو جلا دینے اور ان کو زیادہ مضبوط بنانے کا گر ہمیں سکھایا گیا ہے اور طاقت وقوت میں مسلسل اضافہ ہوتا چلا جارہا ہے جہاد کی رو سے یہ حکم دیا گیا ہے کہ تم میں جتنی طاقت ہے تم اس کا انتہائی طور پر استعمال کرو۔تب تم مجاہد بنو گے۔احسان کی رو سے فرمایا تم میں جتنی طاقت ہے تم اس سے کہیں زیادہ طاقت ور بن سکتے ہو اور تم کو بننا چاہیے ورنہ تم صحیح معنوں میں ایک مسلمان مجاہد نہیں بن سکو گے اور جو محنت کا حکم ہے تم اس کی پوری طرح پابندی نہیں کر سکو گے اور اگر ایسا نہ ہو سکا تو تمہاری طاقتوں کی نشو و نما نہیں ہو سکے گی۔انسان کی طاقتوں کی نشو و نما کے لئے دو چیزوں کی ضرورت تھی۔ایک عرفان ذات وصفات باری تعالیٰ اور یہ علم کے ساتھ تعلق رکھنے والی چیز ہے اور حسین علم پر اس کا دارو مدار ہے۔صرف اللہ تعالیٰ کی ذات وصفات کا علم ہی حسین ہوسکتا ہے۔باقی جتنے علوم ہیں وہ طفیلی اور خالی ہیں اصل علم اللہ تعالیٰ کی ذات وصفات کی معرفت ہے۔اس لحاظ سے قرآن کریم نے فرمایا کہ احسان کرو۔کیونکہ خدا تعالیٰ محسن ہے اور وہ اپنے محسن بندوں سے پیار کرتا ہے۔اس کے معنے یہ ہوئے کہ اللہ تعالیٰ کا یہ منشاء ہے کہ اس کی ذات کی معرفت اور اس کی صفات کا عرفان حاصل کیا جائے۔کیونکہ انسان جب اس کی ذات وصفات کا عرفان حاصل کر لیتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس سے پیار کرنے لگ جاتا ہے۔اللہ تعالیٰ خود حسین ہے تاہم یہ حسن وہ نہیں جو عام دُنیا کی نگاہ میں ہوتا ہے۔بلکہ یہ وہ حسن ہے جس کی انسانی فطرت اور بصیرت گواہی دیتی ہے اور یہ صرف خدا تعالیٰ کی ذات میں نظر آتا ہے۔پس اگر انسان اللہ تعالیٰ کی صفات کا علم حاصل کرے اور اللہ تعالیٰ کی صفات کی معرفت