خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 312 of 640

خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 312

خطبات ناصر جلد چہارم ۳۱۲ خطبہ جمعہ ۲۱؍ جولائی ۱۹۷۲ء کے بعد اس کی صفات کا مظہر بننے کی کوشش کرے اور اس کے مطابق عمل کرے تو جس طرح خدا تعالیٰ کی صفات کے جلوے دُنیا میں ظاہر ہوتے ہیں اسی طرح الہی صفات سے ملتے جلتے جلوے اس کی زندگی میں بھی ظاہر ہونے لگتے ہیں۔چنانچہ یہی وہ حقیقت ہے جو احسان والے مضمون میں بیان ہوئی ہے اور جس کا میرے آج کے اس مضمون یعنی محنت کرو کے ساتھ تعلق ہے۔محنت کرو کا یہ مضمون یا دوسرے لفظوں میں جہاد کا مطلب یہ ہے کہ انسان کے اندر آج جتنی طاقت ہے اس کے مطابق وہ انتہائی کوشش کر دکھائے۔پھر خدا تعالیٰ بڑے پیار سے فرماتا ہے کہ دیکھنا وہیں کھڑے نہیں ہو جانا۔انتہائی کوشش کے بعد احسان کرنا ہے، ذات وصفات باری تعالیٰ کی معرفت حاصل کرنی ہے۔چونکہ صفات الہیہ غیر محدود ہیں۔اس لئے ان کے جلوے بھی غیر محدود ہیں۔اگر انسان الہی صفات کا مظہر بن جائے تو علمی فضاؤں میں اور عملی میدانوں میں اس کی ترقی اور رفعتیں بھی غیر محدود ہوں گی۔پس صفاتِ باری تعالیٰ کی معرفت کے نتیجہ میں انسان کی قوت اور صلاحیت بڑھ جاتی ہے۔وہ زیادہ محنت کرنے کے قابل ہو جاتا ہے۔کیونکہ حسن علم و عمل کے نتیجہ میں انسانی طاقتوں میں اور زیادہ شدت اور اس کی قوت میں اور زیادہ اضافہ ہوتا ہے۔غرض جیسا کہ میں پہلے بتا چکا ہوں اللہ تعالیٰ نے جہاد کا حکم دیا ہے جس کی رو سے انتہائی محنت اور انتہائی کوشش کرنے کا حکم ہے۔یعنی آج کے دن انتہائی کوشش کی کل کے دن کے لئے اپنی طاقت کو احسان کے ذریعہ بڑھایا۔پھر انتہائی کوشش کی پھر اگلے دن کے لئے طاقتوں کو احسان کے ذریعہ بڑھایا اور پھر انتہائی کوشش کی۔نتیجہ یہ نکلا کہ جب ہم کہتے ہیں کہ محنت کرو تو قرآن کریم کی روشنی میں دوسرے لفظوں میں یہ کہہ رہے ہوتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو جو مختلف قوتیں اور صلاحیتیں اور استعدادیں بخشی ہیں ان صلاحیتوں اور استعدادوں کے مطابق انتہائی کوشش کرو۔اللہ تعالیٰ نے ہر شخص کے دائرہ استعداد میں نشو ونما کا اصول قائم فرماتا ہے۔انسان پہلے ہی دن اپنی کوششوں کی انتہا کو نہیں پہنچ سکتا۔جہاد ابتداء ہے یا ابتداء کے قریب آگے بڑھنے کا زمانہ ہے۔احسان طاقت اور قوت میں اضافہ کرتا اور استعدادوں اور صلاحیتوں میں