خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 221
خطبات ناصر جلد چہارم ۲۲۱ خطبہ جمعہ ۱۲ رمئی ۱۹۷۲ء خلیفہ کی نالائقیوں کی وجہ سے جماعت میں بد دلی پیدا ہوگئی ہے۔ان میں بشاشت نہیں رہی بلکہ کمزوری آگئی ہے۔انہوں نے سمجھا کہ ایسی باتیں کر دو کیونکہ ملکی صنعت و حرفت پر اثر پڑا۔تجارتوں پر اثر پڑا۔لوگوں کو گاؤں کے گاؤں چھوڑنے پڑے۔وہ بے گھر ہو کر دوسروں کے اوپر بوجھ بن گئے غرض ان کے دماغ میں تھا کہ اس سے کچھ نہ کچھ تو جماعتی چندوں پر بھی اثر پڑے گا اس لئے ایسی باتیں کر دیتے ہیں۔پھر کہیں گے ہم نے کہا نہیں تھا اب دیکھ لو اثر پڑ گیا ہے۔جہاں تک میری لیاقت یا نالائقیوں کا سوال ہے، اس عاجز بندے نے کبھی لیاقت کا دعویٰ ہی نہیں کیا لیکن اللہ تعالیٰ کے فضل، اس کی رحمت اور اس کی فعلی شہادت نے ہر موقع پر یہ ثابت کیا ہے کہ میں تو نالائق بھی ہو کر یا گیا درگاہ میں بار لیاقت کا دعویٰ کرنے کا تو مطلب ہی کوئی نہیں۔کوئی آدمی جو روحانی طور پر عقلمند اور صاحب فراست ہے، وہ اپنی لیاقت کا دعوی نہیں کیا کرتا۔وہ تو اپنی عاجزی کا اظہار کیا کرتا ہے۔وہ تو اپنی نیستی کا مظاہرہ کرتا ہے۔وہ اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کے عشق میں فنا سمجھتا ہے۔اُسے تو نہ اپنی اور نہ کسی اور چیز کی ہوش ہوتی ہے اس نے اپنی لیاقتوں یا علمیت کا دعوی کیا کرنا ہے۔لیکن وہ خدا جو قادر وتوانا ہے، وہ ناچیز ذروں کو اپنے ہاتھ میں پکڑتا اور ان کے ذریعہ دنیا کو اپنی قدرتوں کے جلوے دکھا تا ہے۔میں نے بتایا ہے کہ گذشتہ سال بڑا سخت سال تھا۔میں نے یہ بھی بتایا ہے کہ میرے لئے فکر بھی پیدا ہوئی اور یہ امر میرے لئے دعائیں کرنے کا ایک سبب اور وسیلہ بھی بن گیا اور ذکر کے حکم کے ماتحت میں نے دوستوں کو اس طرف توجہ بھی دلائی تھی اور میں نے اللہ تعالیٰ پر توکل کرتے ہوئے یہ اعلان بھی کیا تھا کہ اس قسم کی تکلیفیں اور ہنگامے الہی سلسلوں کی راہوں میں روک نہیں پیدا کیا کرتے۔چنانچہ جب مالی سال ختم ہوا تو محض اللہ تعالیٰ کے فضل اور اس کی رحمت سے جماعت احمدیہ کی مالی قربانی اس شکل میں ہمارے سامنے آئی کہ پچھلے سال مجلس شوری کے مشورہ سے صدرانجمن احمدیہ کا جو بجٹ منظور ہوا تھا، اس میں اُس وقت کے حالات کے مطابق مشرقی پاکستان کی آمد اور خرچ بھی