خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 222 of 640

خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 222

خطبات ناصر جلد چہارم ۲۲۲ خطبہ جمعہ ۱۲ رمئی ۱۹۷۲ء شامل تھا لیکن بعد میں حالات بدل گئے تاہم مشرقی پاکستان میں خدا کے فضل سے جماعت احمد یہ زندہ اور قائم ہے وہ اپنے کاموں میں مصروف ہے وہ غلبہ اسلام کے لئے کوششیں کر رہی ہے۔لیکن وہ اپنے چندے وہیں وصول اور خرچ کرتے ہیں۔حالات ہی ایسے ہو گئے ہیں کہ ان کے چندے ہمارے حساب میں نہیں آسکتے۔اس واسطے شوری ۱۹۷۱ء کے پاس کردہ بجٹ سے مشرقی پاکستان کا جو حصہ تھا وہ اب ہمیں نکالنا پڑا کیونکہ یہ مغربی پاکستان کے بجٹ کا حصہ نہیں بن سکتا۔ویسے یہ حصہ وہاں وصول ہو رہا ہے اور خرچ بھی ہو رہا ہے اور میں امید رکھتا ہوں کہ وہاں بھی زیادہ آمد ہوئی ہوگی۔غرض مشرقی پاکستان کے حصہ کی میزان - ۱,۴۱٫۴۷۰۱ روپے بنتی تھی۔اس کے متعلق میں نے متعلقہ نظارت کو کہا کہ گو یہ آمد تو وہاں ہو رہی ہے لیکن اس کے اعداد و شمار کا ہمیں پتہ نہیں اس لئے اسے اپنے سالانہ بجٹ میں کیسے شامل کرو گے۔اس لئے بجٹ سے خارج کر دو۔اسی طرح کچھ زمین کی آمد ہے۔جس کا جماعت کے اخلاص پر تو اثر نہیں پڑا یعنی اگر خدانہ کرے! خدا نہ کرے! کبھی جماعت اپنی مالی قربانی میں مثلاً پچاس ہزار روپے پیچھے رہ جائے لیکن اللہ تعالیٰ کے فضل سے زمین کی آمد ساٹھ ہزار روپے زیادہ ہو جائے تو اس کا یہ مطلب تو نہیں ہو گا کہ جماعت نے مالی قربانی میں قدم آگے بڑھایا ہے بلکہ فکر کی بات پیدا ہو جائے گی۔اس واسطے میں نے کہا کہ زمین کا حصہ بھی علیحدہ کر دو۔کیونکہ اس کو منہا کئے بغیر تو ہم صحیح اندازہ نہیں لگا سکتے۔چنانچہ جب ہم نے بجٹ کا جو محاصل خالص ہے اس سے آمد زمین بقدر - / ۵۵,۰۰۰ اور مشرقی پاکستان سے متعلقہ - ۱٫۴۷۰۱ ۴ اروپے کی رقوم کو علیحدہ کیا اور علیحدہ کرنا چاہیے تھا تو بقیہ جو بجٹ رہ گیا وہ -۳۷,۴۱,۱۷۱۱ روپے کا تھا۔چنانچہ ان تمام ہنگاموں کے بعد اور تمام تکالیف کے بعد اور تمام پریشانیوں کے بعد اور گاؤں چھوڑنے کے بعد اور مہمانوں، بھائیوں اور دوستوں کو اپنے گھروں میں ٹھہرا کر زیادہ بار اٹھانے کے بعد جو آمد ہوئی وہ -/۳۷,۷۵,۰۲۸ روپے کی ہے یعنی جو مجوزہ بجٹ تھا اس سے۔۳۳,۸۵۷۱ روپے زیادہ ہے۔اَلْحَمدُ لِلهِ - پس یہ اللہ تعالیٰ کا فضل ہے کہ ہمارے چندوں میں کمی نہیں آئی حالانکہ منافق یہ سمجھتا تھا کہ کمی آجائے گی۔منافق اپنے اخلاص ( آخر کچھ نہ کچھ تو اخلاص اس کے اندر ہوتا ہے۔اخلاص