خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 58
خطبات ناصر جلد چہارم ۵۸ خطبه جمعه ۲۵ فروری ۱۹۷۲ء کے بعد بی اے، بی ایس سی میں اور پھر ایم اے، ایم ایس سی میں پہنچتا ہے پھر جس طالب علم نے مزید پڑھنا ہوتا ہے وہ ایم اے ، ایم ایس سی کرنے کے بعد ایک سال یا دو سال یا تین سال کا کورس بھی پاس کرتا ہے۔بہر حال انسان اپنی زندگی کے دن درجہ بدرجہ گزارتا ہے اور درجہ بدرجہ اپنی ترقیات کی طرف حرکت بھی کر رہا ہوتا ہے چنانچہ انسان جب بڑا ہوا اور حکومت کے کام میں شامل ہونے لگا تو پھر اس نے مثلاً تین سالہ منصوبے بنانا شروع کر دیئے، پانچ سالہ منصوبے اور پھر سات سالہ منصوبے بنائے گئے اور یہ نہیں کہا گیا کہ اس نسل کے لئے ایک ہی منصوبہ کافی ہے اور یہ نسل آخری وقت تک اس پر کام کرتے ہوئے اسے کامیاب بنانے کی کوشش کرے گی۔تاہم انسان نے وقت کے لحاظ سے اپنی زندگی کے ہر کام کو زندگی کے مختلف ادوار میں بانٹ دیا ہے۔اللہ تعالیٰ نے بھی بانٹا ہے۔مثلاً کچھ عرصہ کے لئے فرمایا دودھ پیو اور کچھ نہیں کھانا۔پھر فرمایا کچھ تھوڑی سی اور چیز ساتھ ملا کر کھاؤ لیکن چنے اور مکئی کے دانے نہیں کھانے۔چنانچہ کھانے کے لحاظ سے ہر عمر میں ایک تدریج پیدا کی گئی اور اس طرح انسانی زندگی کے اس پہلو کو مختلف صورتوں میں بانٹ دیا گیا۔اسی طرح ہم دیکھتے ہیں کہ کھیل کے میدان میں بھی یہی نظر آتا ہے۔غرض زندگی کے ہر میدان میں ہمیں یہی اصول نظر آتا ہے کہ زندگی کو بانٹا گیا اور درجہ بدرجہ ارتقاء اور رفعتوں کے سامان پیدا کئے گئے ورنہ شاید انسان اپنی فطری کمزوری کے نتیجہ میں ان رفعتوں کو نہ پاسکتا جنہیں وہ درجہ بدرجہ ترقی کرتے ہوئے پالیتا ہے۔اسی طرح عبادات میں بھی درجہ بدرجہ ترقی کرنے کے لئے نمازوں کے درمیان وقفے پیدا کر دیئے۔اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا کہ تم سارے دن کی نمازیں ایک ہی وقت میں پڑھ لو۔اس غرض کے لئے اس نے دن کو پھر آگے مختلف حصوں میں تقسیم کر دیا ہے اور پھر رات اور دن کی عبادات کو الگ کر دیا چنانچہ سارے دن کے کام سے تھکنے کے بعد جب رات کی عبادت آئی تو اُسے مشقت والی بنادیا۔غرض یہ اصول ہمیں انسانی زندگی میں کچھ اس طرح نظر آتا ہے کہ ہم اس سے انکار نہیں کر سکتے