خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 57
خطبات ناصر جلد چہارم ۵۷ خطبه جمعه ۲۵ فروری ۱۹۷۲ء مالی قربانیوں کو کمال تک پہنچا ئیں اور نئے سال کے لئے انتہائی کوشش شروع کر دیں خطبه جمعه فرموده ۲۵ فروری ۱۹۷۲ء بمقام مسجد مبارک۔ربوہ تشہد وتعوذ ، سورۃ فاتحہ اور فَإِذَا فَرَغْتَ فَانْصَبُ۔(الم نشرح:۸) کی تلاوت کے بعد حضور انور نے فرمایا۔دنیا میں انسان کی زندگی مختصر ہے۔اس کے باوجود انسانی فطرت جب مستقبل کی طرف دیکھے اس کی لمبائی سے اکتا جاتی ہے لیکن جب وقت گذر جاتا ہے اور انسان پیچھے کی طرف دیکھتا ہے تو اسے اپنی زندگی بڑی مختصر نظر آتی ہے اور جب وہ آگے دیکھتا ہے تو سمجھتا ہے کہ شاید اس نے کبھی مرنا ہی نہیں مثلاً ایک بچہ ہے وہ سمجھتا ہے کہ اس نے کبھی جوان ہی نہیں ہونا اور ایک نو جوان ہے وہ سمجھتا ہے کہ اس نے شاید بڑھاپے کی عمر تک نہیں پہنچنا اور پھر جب آدمی بوڑھا ہو جاتا ہے تو وہ سمجھتا ہے کہ اس نے قیامت تک شاید مرنا ہی نہیں۔کم از کم بہت سے لوگوں کے اعمال ہمیں یہی بتاتے ہیں۔چونکہ انسان مختلف ادوار میں سے گزر کر اپنی زندگی کے دن پورے کرتا ہے اس لئے اللہ تعالیٰ نے اس کی فطرت کو ایسا بنایا ہے مثلاً ایک طالب علم ہے وہ پہلی میں پڑھتا ہے پھر دوسری میں اور پھر دسویں تک پہنچتا ہے۔پھر گیارہویں میں، بارہویں میں اور پھر ایف اے، ایف ایس سی