خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 59
خطبات ناصر جلد چہارم ۵۹ خطبه جمعه ۲۵ فروری ۱۹۷۲ء جس کا مطلب یہ ہے کہ ہر درجہ کے بعد یعنی پہلے درجے میں یا پہلے دائرہ میں یا پہلے دور کے اندر ایک کام مکمل بھی ہو رہا ہے اور اگلے درجہ کے کام کا بیج بھی بویا جا رہا ہے مثلاً نویں کا کورس مکمل بھی ہو رہا ہے اور دسویں میں داخلہ بھی ہو رہا ہے۔میٹرک کا کورس مکمل بھی ہو رہا ہے اور پھر ایف اے، ایف ایس سی ( جسے انٹر میڈیٹ کہتے ہیں) کی تیاری کے لئے بھی سامان ہو رہے ہیں۔پس اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کی اس آیہ کریمہ میں فرمایا ہے کہ ایک دور کے کام سے فارغ بھی ہو گے اور ایک دوسرے دور میں داخل بھی ہورہے ہو گے۔اگر تم میری محبت کی انتہا کو (اپنے دائرہ استعداد میں ) پہنچنا چاہتے ہو تو پھر اس اصول کو یا درکھو کہ جب فرغت کا سوال ہو۔یعنی ایک دور پورا ہو رہا ہو تو بنیادی طور پر تمہیں ایک سبق تو یہ دیا جاتا ہے کہ وہ کام فرغت کے معیار پر پورا اترتا ہو۔فَرغ کے معنے عربی زبان میں کسی کام کو یا کسی چیز کو اس کے کمال تک پہنچانے کے ہوتے ہیں چنانچہ منجد نے لکھا ہے کہ فَرَغَ مِنَ الشَّيْءِ کے معنے ہوتے ہیں اللہ یعنی کسی کام یا چیز کو کامل اور مکمل بنا دیا۔اس کے سارے اجزاء پورے ہو گئے تب وہ عربی زبان کے لحاظ سے فرغت ہے مثلاً دسویں کا وہ طالب علم جود و پرچوں میں فیل ہو جاتا ہے اس کو فرغت نہیں کہا جائے گا یعنی اس کا کام مکمل نہیں ہوا کیونکہ جہاں تک دسویں کے امتحان کی تیاری کا سوال تھا اس نے اپنی ذمہ داری کو کمال تک نہیں پہنچایا اس لئے اس کے اگلے دور کی ترقی یا اس کے لئے جد و جہد کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔غرض اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ فَإِذَا فَرَغْت یعنی جب تم ایک دور کے کام سے اور اس کی ذمہ داری سے پورے طور پر فارغ ہو جاؤ اس معنے میں کہ جس ذمہ داری کو جس حد تک نباہنا ممکن تھا وہ تم نباہ لو، اس میں کوئی پہلو کمزوری کا یا کوئی پہلو خامی کا باقی نہ رہ جائے تم اسے مکمل اور پورا کر دو اور اس کے سارے اجزاء نمایاں طور پر نشو و نما پا چکیں تو پھر وہاں ٹھہر نانہیں کیونکہ زندگی کی کوششوں میں ٹھہراؤ تو موت کے مترادف ہے۔فرمایا فانصب ایک اور دور شروع ہو گیا پھر اس کے لئے تمہیں انتہائی کوشش کرنی پڑے گی۔نصب کے ایک معنے رفعت اور مضبوطی سے قائم کرنے کے ہیں اور ایک معنے ( جو فانصب