خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 46
خطبات ناصر جلد چہارم ۴۶ خطبه جمعه ۱۸ / فروری ۱۹۷۲ء گئے ہیں۔کامیابی تو کجا تمہاری بقا کا سوال بھی باقی نہیں رہا ہے۔اُس وقت تم سمجھو گے کہ اللہ تعالیٰ کی مدد کے بغیر ہم نہ زندہ رہ سکتے ہیں اور نہ کامیاب ہو سکتے ہیں چنانچہ اس طرح جھنجھوڑے جانے کے بعد اور اس امتحان میں کامیاب ثابت ہونے کے بعد اللہ تعالیٰ کی اِس آواز أَلا إِنَّ نَصُرَ اللهِ قريب۔(البقرۃ: ۲۱۵) کو تم عصر کے وقت سنو گے کہ دیکھو! اللہ تعالی کی مددتمہارے قریب ہے۔اگر ہم اسلامی تاریخ پر نگاہ ڈالیں تو یہ بات بڑی واضح ہو جاتی ہے کہ میں نے تمثیلی رنگ میں جس عصر کے وقت کا ذکر کیا ہے، اس وقت بالعموم اللہ تعالیٰ کی مرد نازل ہوتی رہی ہے چنانچہ کی زندگی کے بعد بدر کی جنگ تمثیلی رنگ میں عصر کے وقت لڑی گئی ہے کیونکہ اس سے پہلے کی زندگی میں مسلمانوں کو ہر قسم کے دُکھ پہنچائے گئے یہاں تک کہ اڑھائی سال تک آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کو شعب ابی طالب میں بند رکھا گیا اور آپ کا مکمل بائیکاٹ کیا گیا حتی کہ کفار مکہ کھانے پینے کی چیزوں تک کو اندر نہیں جانے دیتے تھے۔گو اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو زندہ رکھنے کے سامان تو پیدا کر رہا تھا مگر آزمائش تھی امتحان تھا ( جو خدا ان کو زندہ رکھنے کے لئے کھانے کا انتظام کر سکتا تھا وہ ان کو صحت مند اور طاقتور رکھنے کا انتظام بھی کر سکتا تھا لیکن چونکہ مسلمانوں کی آزمائش تھی ) اس لئے ان کی تکلیف کی یہ حالت تھی کہ ایک بزرگ صحابی کہتے ہیں ایک دفعہ رات کے وقت میرا پاؤں ایک ایسی چیز کے اوپر پڑا جسے میرے پاؤں نے نرم محسوس کیا چنا نچہ میں نے اُسے اُٹھایا اور کھا لیا لیکن مجھے آج تک پتہ نہیں لگا کہ وہ تھی کیا چیز۔غرض اس تکلیف دہ حالت تک وہ پہنچے ہوئے تھے۔گواڑھائی سال تک انسان بھوکا نہیں رہ سکتا۔ظاہر ہے محض زندہ رکھنے کے لئے ان کو جتنی غذا کی ضرورت تھی وہ ان کو مل گئی لیکن بھوک کی آزمائش بڑی سخت تھی علاوہ دوسری آزمائشوں کے جن کی تفصیل میں میں اس وقت نہیں جا سکتا۔پھر جب ہجرت کی اجازت ملی تو انہی کفار نے مسلمانوں کا پیچھا کیا اور کہا کہ یہ باہر نکل کر کیسے جاسکتے ہیں۔ہم ان کو مٹا دیں گے چنانچہ یہ وہ وقت تھا جب دُکھ اور تکلیف، کرب اور ایذاء، آزمائش اور امتحان اپنی انتہا کو پہنچ چکا تھا چنانچہ پھر دُنیا نے بدر کے میدان میں یہ نظارہ دیکھا کہ تین سو اور کچھ مسلمانوں کے مقابلے میں جو اسلام کو مٹانے اور مسلمانوں کو قتل کرنے کے لئے آئے