خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 47 of 640

خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 47

خطبات ناصر جلد چہارم ۴۷ خطبه جمعه ۱۸ / فروری ۱۹۷۲ء وہاں تھے ، وہ اپنے قریباً سب بڑے بڑے سرداروں کے سر چھوڑ کر واپس بھاگے۔غرض الا ان نَصْرَ اللهِ قَرِيبٌ کا ایک عجیب نظارہ تھا جو دُنیا نے بدر کے میدان میں دیکھا اور پھر یہی نظارہ ہم بعد کی لڑائیوں میں بھی دیکھتے ہیں۔جیسا کہ میں نے بتایا ہے مسلمانوں کے لئے بہت سے امتحان اور آزمائشیں ہوتی ہیں لیکن جن آزمائشوں کا بطور خاص میں اس وقت ذکر کر رہا ہوں وہ مادی طاقت اور زور کے ساتھ اور مادی ذرائع سے دشمن کے ہاتھوں مسلمانوں کے قتل اور اسلام کو مٹانے کا منصوبہ اور آزمائش ہے یعنی یہ آزمائش کہ دشمن مٹانا چاہتا تھا لیکن مسلمانوں نے صبر وثبات دکھایا اور دشمن ناکام ہوا مثلاً جنگ احزاب ہے جس کا ان آیات میں ذکر ہے جن کی میں نے ابھی تلاوت کی ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ مسلمانوں نے یہ عہد کیا تھا کہ وہ دشمن کو پیٹھ نہیں دکھا ئیں گے خواہ کیسے ہی حالات کیوں نہ پیدا ہو جائیں۔وہ ہر صورت میں دشمن کا مقابلہ کریں گے اور اسے پیٹھ نہیں دکھا ئیں گے چنانچہ کیسے ہی حالات احزاب کے موقع پر پیدا ہو گئے۔قریباً سارا عرب اکٹھا ہو کر ان غریبوں اور مفلسوں اور نہتوں کو قتل کرنے کے لئے وہاں جمع ہو گیا اور انہوں نے مدینہ کا محاصرہ کر لیا۔مسلمانوں کی یہ حالت تھی کہ بھوک کے مارے وہ پیٹ پر پتھر باندھ کر چلتے تھے۔دوسری طرف مسلمان عورتوں کی یہ حالت تھی کہ جس جگہ وہ اکٹھی کی گئیں وہاں ان کی عزت اور عصمت کی حفاظت کے لئے بھی مسلمان سپاہی میسر نہیں تھا کیونکہ دوسری جگہ اس کی زیادہ ضرورت تھی۔مسلمان عورت سے فرمایا کہ اگر آج تیری عزت کی آزمائش ہے اور خدا یہ دیکھنا چاہتا ہے کہ ایک مسلمان عورت میرے راستے میں اپنی عزتوں کو قربان کرنے کے لئے تیار ہے یا نہیں تو وہ اس امتحان میں پورا اترنے کے لئے تیار ہو جا ئیں چنا نچہ وہ تیار ہو گئیں۔پھر جس وقت یہ سارا جم غفیر اور یہ سارا مجمع جو اسلام کو مٹانے کیلئے جمع ہوا تھا اور اُن کفار کی اُمید اپنی انتہا کو پہنچ چکی تھی کہ بس اب وہ غالب آئے اور مسلمان مغلوب ہوئے۔ادھر مسلمانوں کے حالات کرب عظیم کو پہنچ گئے اور وہ سمجھنے لگے کہ اگر اس وقت خدا تعالیٰ کی مدد نہ آئی تو وہ مارے جائیں گے، اس وقت خدا کی مدد آئی اور فرشتے اس مدد کو آسمان سے لے کر آئے تو اُنہوں نے