خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 45 of 640

خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 45

خطبات ناصر جلد چہارم ۴۵ خطبه جمعه ۱۸ / فروری ۱۹۷۲ء قربانیاں پیش کر دیتا تو اس دُنیا میں بھی اُس کو انعام مل جا تا یعنی اگر اس کی نیت خدا تعالیٰ کی رضا کے حصول کے لئے ہوتی ہے تو اُسے اُخروی زندگی کا انعام بھی مل جاتا اور اس دُنیا کا انعام بھی مل جاتا لیکن وہ شخص جو عبادت کرتا ہے علی حرف تعلق رکھتا ہے بد دلی کا مگر دعویٰ کرتا ہے محبت کا۔لیکن محبت جس روح، ایثار، قربانی اور جنون کا تقاضا کرتی ہے وہ اس کے اندر پیدا نہیں ہوتا تو پھر اس کا نتیجہ خَسِرَ الدُّنْيَا وَالْآخِرَةَ کی شکل میں ظاہر ہوتا ہے۔اللہ تعالیٰ نے سورہ احزاب میں ایک مثال دی ہے اس بات کی کہ جو آدمی ابتلاء کے وقت ، کرب عظیم کی حالت میں بھی اپنے رب رحیم کے ساتھ پختہ تعلق رکھتے ہیں وہ ناکام نہیں ہوا کرتے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:۔يَايُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اذْكُرُوا نِعْمَةَ اللهِ عَلَيْكُمْ إِذْ جَاءَ تَكُمْ جُنُودُ فَأَرْسَلْنَا عَلَيْهِمْ رِيحًا وَجُنُودًا لَمْ تَرَوهَا وَ كَانَ اللهُ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِيرًا - إِذْ جَاءُوكُمْ مِنْ فَوْقِكُمْ وَمِنْ أَسْفَلَ مِنْكُمْ وَ إِذْ زَاغَتِ الْاَبْصَارُ وَ بَلَغَتِ الْقُلُوبُ الْحَنَاجِرَ وَ تَظُنُّونَ بِاللَّهِ الظنونا - هُنَالِكَ ابْتُلِيَ الْمُؤْمِنُونَ وَزُلْزِلُوا زِلْزَالًا شَدِيدًا - (الاحزاب : ۱۰ تا ۱۲ ) وَ لَقَدْ كَانُوا عَاهَدُوا اللهَ مِنْ قَبْلُ لَا يُوَلُّونَ الْأَدْبَارَ وَ كَانَ عَهْدُ اللهِ مسْئُولًا - (الاحزاب : (١٦) وَلَمَّا ذَا الْمُؤْمِنُونَ الْأَحْزَابَ قَالُوا هَذَا مَا وَعَدَنَا اللَّهُ وَرَسُولُهُ وَصَدَقَ اللهُ وَرَسُولُهُ وَمَا زَادَهُمْ إِلَّا إِيمَانًا وَتَسْلِيمًا - مِنَ الْمُؤْمِنِينَ رِجَالُ صَدَقُوا مَا عَاهَدُوا اللهَ عَلَيْهِ فَمِنْهُمْ مَنْ قَضَى نَحْبَهُ وَمِنْهُم مَنْ يَنتَظِرُ وَمَا بَدَّلُوا تَبْدِيلاً۔(الاحزاب : ۲۳ ، ۲۴) جیسا کہ میں بتا چکا ہوں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میری عبادت علی حرف یعنی بد دلی سے کرنا تو سراسر بے نتیجہ ہے۔تمہیں آزمایا جائے گا۔تمہیں باساءِ اور ضَرَّآءِ دیکھنی ہوں گی۔تمہیں اس طرح جھنجھوڑ کر رکھ دیا جائے گا کہ اُس وقت سوائے اللہ تعالیٰ کی مدد کے تمہاری زندگی اور بقاء کا اور کوئی سہارا نہیں ہوگا۔دوسری طرف تمہاری کیفیت یہ ہو گی کہ تم سمجھو گے کہ سب دُنیوی سہارے ٹوٹ