خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 570
خطبات ناصر جلد چہارم ۵۷۰ خطبه جمعه ۸ /دسمبر ۱۹۷۲ مل جائے گا۔ویسے زمیندار کی عادت ہے کہ پانچ دن کی روٹی پانچویں دن کھا لے تو پانچ دن صبر بھی کر سکتا ہے۔دس وقتوں کی ایک وقت میں روٹی بھی کھا سکتا ہے۔اللہ تعالیٰ نے زمیندار کو ایسی عجیب طاقت دی ہے کہ جس کا شہر والے تصور بھی نہیں کر سکتے۔خود میرا اپنا مشاہدہ ہے ایک دفعہ میں خدام الاحمدیہ کے دورے پر گیا۔ایک جگہ بارش ہو گئی سیلاب آ گیا۔راستے رک گئے ، جس گاؤں جانا تھا وہاں کے قائد صاحب پانی میں سے گزرتے ہوئے سات آٹھ میل پر گاؤں سے دور جہاں سے آگے ہم نہیں جا سکتے تھے ہمیں لینے کے لئے پہنچے۔ہمارا سامان اٹھایا ہمارے ساتھ گئے۔ہماری خدمت کی ہمیں کھانا کھلایا اور ہر وقت میرے ساتھ رہے اور کھانے میں شریک نہیں ہوئے اگلے دن صبح کے ناشتے میں شریک نہیں ہوئے۔دو پہر کا کھانا کھا کر ملاقاتیں کر کے باتیں کر کے سمجھا کر۔کام کے متعلق مشورہ لے کر مشورہ دے کر دو پہر کے کھانے کے بعد واپس آئے اس طرح آٹھ دس میل تک ہمارے ساتھ ہمیں واپس چھوڑنے آئے جہاں سے گئے تھے اور جہاں ہماری پرانی سی کا رکھڑی تھی جسے میں استعمال کرنے کے لئے مقامی تبلیغ والوں سے لے گیا تھا۔تو جب ہم وہاں پہنچے تو میں نے ان سے پوچھا کہ ہمارے ساتھ لگے رہے ہو کل سے کچھ کھایا بھی ہے کہنے لگے نہیں۔خدا تعالیٰ نے ایک زمیندار کو یہ طاقت دی ہوئی ہے اس لئے وہ یہ سمجھتا ہے کہ روحانی میدان میں بھی میں چھ ماہ کے بعد دے دوں گا تو گزارہ کرلوں گا۔خدا کرے گزارہ کر جائے۔لیکن جتنا ہو سکے ماہانہ چندہ بھی دیں اس میں سے کٹوتی ہو جائے گی۔کھانے کے لحاظ سے بھی زمیندار بڑے مشہور ہیں۔میں پہلے بھی کئی دفعہ بتا چکا ہوں ایک زمیندار دوست جلسہ سالانہ کے موقع پر میرے ہاں مہمان تھے۔اور بھی مہمان تھے جن کے لئے کھانا عموماً گھر میں ہی پکا کرتا تھا۔ایک دن اُنہوں نے کہا لنگر سے کھانا منگوا دیں۔چنانچہ میں نے رات کا کھانا منگوایا جو بڑی دیر سے پہنچا۔اتنے میں ہم کھانا کھا چکے تھے۔یہ زمیندار دوست بھی کھانا کھا چکے تھے۔جب لنگر کا کھانا آیا جو بائیں روٹیاں اور اس کے مطابق سالن تھا تو یہ زمیندار دوست کہنے لگے صبح تک تو یہ خراب ہو جائے گا۔تو میں ہی کھا لیتا ہوں چنانچہ انہوں نے رات کا کھانا کھانے کے باوجود ۲۲ روٹیاں اور سالن کھا لیا۔پس زمیندار دوست کھانے پر صبر بھی