خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 569 of 640

خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 569

خطبات ناصر جلد چہارم ۵۶۹ خطبه جمعه ۸ /دسمبر ۱۹۷۲ اور اب دسمبر کا مہینہ آ گیا ہے۔گویا کہ دسمبر کے آخر میں موجودہ مالی سال کے آٹھ مہینے ختم ہورہے ہیں اس لئے جو بجٹ آپ نے اپنے نمائندوں کی معرفت مجلس شوری میں پاس کیا تھا اس کا دو تہائی دسمبر کے آخر تک جمع ہو جانا چاہیے بعض دفعہ شیطان انسان کے دماغ میں عجیب طرح کے وسوسے بھی پیدا کرنے کی کوشش کرتا ہے ہمیں اس سے بچنا چاہیے۔بعض ایسی جگہوں سے اطلاع ملی ہے جنہوں نے نصرت جہاں ریز روفنڈ کی تحریک میں عطا یا نہیں دیئے یا بہت کم دیئے ہیں مگر انہوں نے یہ عذر بیان کر دیا کہ کیونکہ نصرت جہاں ریز روفنڈ کے عطا یا دینے تھے اور جلد ادا کرنے کا حکم تھا اس لئے ہم لازمی چندہ جات کی ادائیگی میں کچھ ست ہو گئے ہیں۔ادھر یہ عذر پیش کر دیا اور ادھر وہ کام بھی نہیں کیا یہ تو بے خیالی کا نتیجہ ہے میں آپ پر الزام نہیں دیتا انسان سے بھول ہو سکتی ہے یہ ان نَّسِينَا میں آتا ہے یعنی جو ہم بھول جائیں مختلف راہوں سے شیطان ہم پر اثر انداز ہوتا ہے۔بھول کر یہ عذر کر دیا نصرت جہاں ریز روفنڈ کے جو آپ دوستوں میں سے بعض لوگوں کے وعدے ہیں وہ رضا کارانہ طور پر ہیں۔اور لازمی چندہ جات لازمی ہیں وہ بہر حال آپ کو ادا کرنے چاہیں۔لازمی چندے مختلف ادوار میں سے گزر کر کم سے کم ایمان کے معیار کو بتاتے ہیں۔ورنہ تو جو آگے نکلے انہوں نے دسویں حصہ کی وصیت کر دی۔جو ان سے آگے نکلے انہوں نے نویں حصہ کی وصیت کر دی اور پھر آٹھویں حصہ کی ، پھر ساتویں حصہ کی ، پھر چھٹے حصہ کی کسی نے ۱٫۳ کی کر دی۔اس سے زیادہ وصیت تو اسلامی تعلیم کے مطابق نہیں کر سکتے۔لیکن لا زمی چندے تو کم از کم معیار ہیں۔اور لازمی چندے ہیں۔اس میں اللہ تعالیٰ نے جماعت کو عقل اور سمجھ عطا کی ہے۔جتنی سہولتیں دوستوں کی مجبوریوں کی وجہ سے دی جانی چاہیں وہ دی جاتی ہیں۔مثلاً ہمارا زمیندار ہے جو سال میں دو دفعہ غلہ زمینوں سے اٹھا کر اپنے گھر لاتا ہے۔تو ان کے لئے اس میں سہولت ہے کہ سال میں اگر ہر مہینہ چندہ نہیں دے سکتے تو سال میں دو دفعہ سارے سال کے چندے دے دیا کریں۔میں سمجھتا ہوں کہ جس کے ذمہ مثلاً ایک سولازمی چندہ ہے وہ ایک فصل کے موقع پر دو دفعہ پچاس پچاس کر کے دینے کے ساتھ ساتھ ایک ایک روپیہ ہر مہینے ادا کرے تو اس کے لئے بہتر ہے کیونکہ کھانے کی طرح یہ بھی ایک روحانی غذا ہے۔اس کو ہر مہینے کچھ سہارا