خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 571
خطبات ناصر جلد چہارم ۵۷۱ خطبه جمعه ۸ /دسمبر ۱۹۷۲ کر سکتے ہیں اور پانچ پانچ دن کا کھانا اکٹھا بھی کھا لیتے ہیں شہری لوگ ایسا نہیں کر سکتے۔اس لئے ان کو ہم کہتے ہیں کہ جب خریف کی فصل کا ٹو تو آدھا چندہ دے دو اور جب ربیع کی کاٹو تو آدھا چندہ دے دو کچھ تھوڑا تھوڑا ہر مہینے دیتے رہا کر ولیکن اب چونکہ خریف کی فصلوں کی آمد آ رہی ہے اس واسطے آج میں خصوصاً اپنے زمیندار بھائیوں اور زمیندارہ جماعتوں کو یہ نصیحت کر رہا ہوں اور ساتھ ہی اپنی شہری آبادی کو بھی نصیحت کر رہا ہوں کہ لازمی چندہ کا ۳/ ۲ حصہ ۳۱ دسمبر تک یہاں پہنچ جائے۔یہ کوئی مشکل بات نہیں ذراسی ہمت کی بات ہے۔ہمارے ناظر صاحبان دفتری نقطہ نگاہ سے دیکھتے ہیں اور وہ حقیر انسان جس کو اللہ تعالیٰ نے آپ کا امام بنا دیا ہے وہ کسی اور نگاہ سے دیکھتا ہے چنانچہ وہ گھبرا جایا کرتے ہیں اور میں ان کی گھبراہٹ پر مسکرا یا کرتا ہوں۔یہ قوم اس لئے پیدا نہیں کی گئی کہ وہ چندوں کی ادائیگی یا دیگر ہمہ گیر قربانیوں میں پیچھے رہ جائے۔لیکن سال میں ایک دو بار ناظر صاحب بیت المال آمد پر گھبراہٹ کا دور آتا ہے آج کل بھی آیا ہوا ہے۔وہ مجھے گبھراہٹ کے بار بار خط لکھ کر میری مسکراہٹوں میں اضافہ کرتے رہتے ہیں۔پس میں اپنے زمیندار دوستوں سے یہ کہوں گا کہ اب آپ کو مثلاً گنے کی آمد آرہی ہے۔کپاس کی آمد آرہی ہے۔جن دوستوں نے مونجی لگا رکھی ہے، اس کی آمدان کو پہنچ رہی ہے۔اس وقت وہ بڑی آسانی سے اپنے اپنے چندے ادا کر سکتے ہیں اور یہ خریف کی فصل ہی میں زیادہ آسانی ہے کیونکہ ربیع کی فصل سے زیادہ تر گندم آتی ہے ہمارا جو چھوٹا زمیندار ہے اس نے سارے سال کے لئے اپنے کھانے کا بھی انتظام کرنا ہوتا ہے۔وہ اس وقت چندے کا بوجھ پوری طرح نہیں اٹھا سکتا۔(اس سے مراد سندھ کی ساری زمینیں ہیں جن میں حضرت صاحب اور جماعت کی زمین بھی شامل ہے ) ہمارا سندھ کی زمینوں کا تجربہ ہے سارے سال کا خرچ خریف کی فصلوں میں رکھا جاتا تھا گویا یہ اصول بنا یا ہوا تھا اور زمین سے جو اصل منافع متوقع ہوتا ہے وہ ربیع کی فصل سے حاصل کیا جاتا ہے۔گنا اور کپاس تو Cash Crops ( کیش کرا پس) ہیں یعنی یہ وہ فصلیں ہیں جن کے بدلہ میں آپ کو نقد روپیہ ملتا ہے اسی طرح پنجاب کے اکثر حصوں میں لوگوں میں چاول کھانے کی عادت نہیں اس لئے یہ چاول بھی Cash Crop ہی سمجھا جاتا ہے یہ بھی