خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 497
خطبات ناصر جلد چہارم ۴۹۷ خطبہ جمعہ ۳/ نومبر ۱۹۷۲ء راولپنڈی کی جماعت ہے، پشاور کی جماعت ہے پانچ سات بڑی بڑی جماعتیں ہیں جو تحریک جدید اور دوسرے چندوں کا بھی بڑا بوجھ اٹھاتی ہیں۔اب مثلاً تحریک جدید کے سالِ رواں کے بجٹ میں سے ایک لاکھ سولہ ہزار روپے کا بجٹ کراچی نے پورا کیا ہے جو پاکستان میں تحریک کے چندوں کے سارے بجٹ کا قریباً پانچواں حصہ ہے۔گویا بیس فیصد بوجھ صرف کراچی کی جماعت نے اٹھا لیا ہے ان کے علاوہ بھی بہت سی جماعتیں نومبر تک یہ چندہ ادا کر سکتی ہیں یا کم از کم دسمبر سے پہلے دے سکتی ہیں اور ان کو دینا چاہیے تاہم اگر بروقت ادا ئیگی نہیں ہوتی تو اس میں ان کا اتنا قصور نہیں جتنا لینے والوں کا قصور ہے۔دفتر انہیں یاد دہانیاں نہیں کراتے۔قرآن کریم میں خدا تعالیٰ نے یوں ہی بلا وجہ ذکر کی نصیحت نہیں فرمائی۔خدا تعالیٰ نے مختلف پہلوؤں سے 66 مختلف محاورے استعمال کر کے مختلف مضامین کے ضمن میں ”ذکر“ کا لفظ استعمال کر کے اس طرف توجہ دلائی ہے کہ تم لوگوں کو یاد دلاتے رہا کرو۔کیونکہ بعض دفعہ ایک انتہائی مخلص انسان بھی سستی کر جاتا ہے۔پس ذکر ، یعنی یاد دہانی کا یہ مطلب نہیں ہوتا کہ جس آدمی کو یاد دہانی کرائی جا رہی ہے۔اس کے اندر اخلاص نہیں ہے بلکہ اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ جس کو ذکر کی یاد دہانی کرنے کی نصیحت کی گئی تھی اس نے اس حکم پر عمل نہیں کیا۔پس یہ ایک چیلنج ہے جو رمضان کا یہ آخری جمعہ ہمیں دے کر رخصت ہو رہا ہے۔ہمیں یہ بھی کہا گیا ہے کہ زمانے کے لئے بھی دعا کرو۔چنانچہ حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ زمانے کو برا بھلا نہ کہو جس کا مطلب یہی ہے کہ زمانے کو اچھا کہو۔اس کا ایک پہلو تو یہ ہے کہ زمانے سے کہو تیرا شکر یہ چنانچہ اس کے متعلق حدیث میں ایک معنے یہ بھی بیان ہوئے ہیں کہ زمانہ کوئی چیز نہیں اصل تو خدا تعالیٰ ہی ہے۔پس جب اصل خدا تعالیٰ ہی ہے تو پھر زمانہ کو برا بھلا نہ کہو کے مقابل پر آئے گا۔الْحَمْدُ لِلَّهِ پڑھو اور اَلْحَمْدُ لِلَّهِ ان نعمتوں کو دیکھ کر پڑھی جاتی ہے جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل ہوتی ہیں۔پھر یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ہر زمانہ میں خدا تعالیٰ کے پیار اور اس کی رضا کی تلاش میں ایک گروہ ایک جماعت کوشاں ہوتی ہے اور وہ مجاہدہ میں مصروف ہوتی ہے۔غرض جس زمانہ میں رضائے الہی اور محبت الہی کے حصول کے لئے انسانوں کی ایک جماعت