خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 451 of 640

خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 451

خطبات ناصر جلد چہارم ۴۵۱ خطبہ جمعہ ۶ اکتوبر ۱۹۷۲ء غرض انسان کا مجاہدہ اس کو عاجزی کی طرف مائل کرتا ہے۔گوساری عبادتیں ہی اس قسم کی ہیں لیکن میں اس وقت ان پانچ بڑی بڑی چیزوں کولوں گا جن کا تعلق رمضان کی برکات سے ہے۔چنانچہ بھر پور برکتوں کے ساتھ آنے والے اس ماہ مبارک کی پہلی برکت یہ ہے کہ ایمان کے پیج کو مضبوط کرنے کے سامان اس میں زیادہ پائے جاتے ہیں۔خشوع و خضوع ، تضرع و ابتہال اور عاجزی اور فروتنی کی حالتیں اس مہینے میں بمقابلہ دوسرے مہینوں کے زیادہ میسر آتی ہیں علاوہ ازیں اس مہینے میں بھی گوحسنات دنیا کے حصول کی جدو جہد کی اجازت دی گئی ہے لیکن اس کے مقابلہ میں دوسرے مہینوں میں زیادہ دی گئی ہے۔اس مہینے میں زیادہ زور عبادات پر دیا گیا ہے۔چنانچہ تہجد کے نوافل ہیں۔انسان قربانی اور ایثار دکھاتا ہے۔بعض صورتوں میں نماز با جماعت سے استثناء بھی جائز ہے یعنی نماز کے لئے مسجد میں نہ جانا قابلِ اعتراض نہیں ہوتالیکن رمضان کے بارہ میں یہ کہا گیا ہے کہ مسجدوں میں زیادہ تعداد میں اور کثرت سے آؤ۔پھر اور عبادتیں ہیں یہ ساری عبادتیں انسان کے لئے جنگلے کا کام دیتی ہیں۔انسان تکبر، غرور اور خود پسندی کے کانٹے دار جھاڑیوں کے جنگل میں سرگرداں ہونے سے بچ جاتا ہے کیونکہ اسے محاسبہ نفس کے مواقع رمضان میں کثرت سے میسر آتے ہیں۔اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں بار بار فرمایا ہے کہ دیکھو تمہاری حیثیت کیا ہے۔جب تک تم خدا تعالیٰ سے تعلق پیدا نہیں کرتے۔جب تک تم عاجزانہ طور پر اس کے سامنے نہیں جھکتے اور جب تک تضرع کے آنسوؤں کے ساتھ اپنے گناہوں کو دھونے کی کوشش کر کے اس کی رحمت کو جذب نہیں کرتے اس عالمین میں تمہاری کوئی حیثیت نہیں۔پس خشوع کی حالت رمضان کے مہینے میں دوسرے مہینوں کی نسبت زیادہ میسر آتی ہے۔دوسری چیز لغو باتوں کو چھوڑنا ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی بڑی تاکید بیان فرمائی ہے کہ رمضان میں بالخصوص لغو باتوں کی طرف توجہ نہ دیا کرو۔زیادہ توجہ اپنی عبادتوں کی طرف قائم رکھو۔یہ حکم خداوندی ہے اور ہمارے لئے ایک بہت بڑی نعمت ہے جو نمایاں طور پر ہمارے سامنے ماہِ رمضان میں آتی ہے۔درختوں یا فصلوں کے بیج سے سبزہ پھوٹتا اور چھوٹے چھوٹے اور نرم نرم تنکے نکلتے ہیں۔ان کی حیثیت یہ ہوتی ہے کہ چھوٹی سی چڑیا یا چنڈول اسے ضائع