خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 450
خطبات ناصر جلد چہارم ۴۵۰ خطبه جمعه ۶ را کتوبر ۱۹۷۲ء شہوات نفسانیہ کا خاتمہ کر کے ان شاخوں میں مضبوطی پیدا کی جاتی ہے، مضبوطی کے بعد پھر وہ شاخیں پھیلنے لگتی ہیں۔اللہ تعالیٰ کے ساتھ انسان نے مثلاً جو عہد و پیمان کیا ہے اور بندوں نے جو امانتیں اُسے دینی ہیں اُن کو ذہن میں حاضر رکھنے اور ان کی حفاظت کرنے سے ایمان کا درخت مضبوط تنے پر کھڑا ہو جاتا ہے اور پھر وہ اس قابل ہو جاتا ہے کہ اُسے پھل لگے۔اسی طرح فرد کو بھی اور اس سے تعلق رکھنے والے افراد کو بھی جنت کے پھل نصیب ہوں۔وہ خدا کی رضا کی جنتوں میں داخل ہو جائیں۔چونکہ امانتوں کا ذکر آیا ہے اس لیے میں ضمناً یہ بتا دینا چاہتا ہوں کہ امانت صرف روپے پیسے کی نہیں ہوتی بلکہ ہر قسم کی امانتیں مراد ہیں مثلاً بندوں کی ایک یہ امانت ہے جس کے متعلق آپ اکثر سنتے رہتے ہیں اَن تُؤَدُّوا الْآمَنتِ إِلَى أَهْلِهَا (النساء : ۵۹) یہ آیت کا ایک حصہ ہے جس کے ایک معنی یہ بھی ہیں کہ جو اہل ہے اس کو عہدہ دو۔کیونکہ عہدہ بھی ایک امانت ہے۔یہ ایک بڑا ہی وسیع مضمون ہے۔مختصراً یہ کہ اللہ تعالیٰ سے کئے گئے عہد و پیمان کو پورا کرنے اور بندوں کی جو امانتیں ہیں ان کو لوٹانے سے انسانی درخت وجود میں ایک حُسن پیدا ہوتا ہے۔پس یہ ایمان اور عمل صالح کا آپس میں تعلق ہے۔گو اور بھی بعض تعلقات ہیں لیکن یہ پانچوں چیزیں یعنی جہاں انسان کا مجاہدہ ختم ہوتا ہے وہاں تک چار اور جہاں سے اللہ تعالیٰ کی رحمت شروع ہوتی ہے وہ پانچویں۔ان کا میں نے اس وقت مختصراً اس غرض سے ذکر کیا ہے کہ ان کا تعلق ماہِ رمضان سے ہے۔یہ چاروں پانچوں چیزیں ہمیں اس ماہ مبارک میں نظر آتی ہیں۔جیسا کہ میں پہلے بتا چکا ہوں پہلی چیز خشوع کی حالت ہے۔یہ حالت یعنی دل میں عاجزانہ راہوں کو اختیار کرنے کا احساس ، انکسار کا جذبہ اور اصلاح نفس کی طرف توجہ پیدا ہوتو رمضان میں نفس کی تادیب و اصلاح کا بڑا موقع ملتا ہے۔انسان نے روزہ رکھا ہوتا ہے، وہ راتوں کو جاگ رہا ہوتا ہے۔اس تھوڑی سی مشقت کے بعد ایک صاحب فراست انسان سمجھ جاتا ہے کہ اتنی سی تکلیف نے اس کا وجود جھنجوڑ کر رکھ دیا ہے یہاں تک کہ اس کی انا ختم ہوگئی۔