خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 365
خطبات ناصر جلد چہارم ۳۶۵ خطبه جمعه ۱۸ راگست ۱۹۷۲ء کوشش کرتا ہے۔ایک دوست دوست کی اصلاح کی کوشش کرتا ہے۔ایک خاوند بیوی کی اصلاح کی کوشش کرتا ہے ایک بیوی خاوند کی اصلاح کی کوشش کرتی ہے۔یعنی انسانی معاشرہ میں جو لوگ تعلق رکھنے والے اور قریبی ہیں وہ جس رنگ میں بھی قریبی ہوں وہ اپنے قرابت داروں کا پورا خیال رکھتے اور ان کی ضرورتوں کو پورا کرتے ہیں تا کہ ان کے اندر جو قوتیں ہیں وہ کامل نشو و نما حاصل کریں۔پھر ایک منظم طریق ہے جس پر الہی سلسلے کام کرتے ہیں مثلاً قرونِ اولیٰ میں ایک منظم طریق یہ تھا کہ جہاد کا اعلان ہو جاتا تھا۔جہاد کے لئے چلنے کا حکم ملتا تھا اور لوگ جوق در جوق جہاد کے لئے چل پڑتے تھے۔چنانچہ جہاد صغیر کو ذریعہ بنایا جاتا تھا جہاد اکبر یعنی انسان پر روحانی حسن چڑھانے کا۔جس طرح لڑکوں کو کچھ پڑھا کر پھر ان کا امتحان لیا جاتا ہے اور اس سے ان کی قابلیت کا پتہ لگتا ہے۔امتحان کے قریب آکر طلبہ بہت زیادہ محنت کرتے ہیں۔اُس وقت تو ایک نکما طالب علم جس کی پڑھائی کی طرف کبھی توجہ نہیں ہوتی ، وہ بھی کوشش کرتا ہے کہ امتحان کے سات دن پہلے خوب پڑھے۔میں نے ایسے طالب علموں کو خود دیکھا ہے کہ وہ ساری ساری رات جاگتے رہتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ سات دن کے رت جگے کے نتیجہ میں وہ بڑے اچھے نمبر لے لیں گے۔یہ ان کی غلطی ہوتی ہے لیکن بہر حال جب امتحان کا وقت قریب ہو تو انسان کی کوشش تیز ہو جاتی ہے۔تو اسی طرح جہاد کے دوران میں جب موت اپنے سروں پر منڈلاتی نظر آتی ہو تو کمزور سے کمزور آدمی بھی اپنی اصلاح نفس کی طرف زیادہ توجہ کرتا ہے۔میں اس وقت جہاد صغیر کے اس حصے کو لے رہا ہوں جس کا تعلق اجتماعی طور پر نفس کی اصلاح سے ہے اور یہ بتارہا ہوں کہ جہاد صغیر کے دوران میں انسان کے دل میں ایک خوف پیدا ہوتا ہے۔وہ سمجھتا ہے کہ شاید وہ دودن یا تین دن کے بعد خدا کے حضور پیش ہو جائے تو کیا منہ لے کر خدا کے حضور پیش ہو گا۔پھر وہ زیادہ استغفار کرتا ہے۔وہ اپنے اخلاص اور ایثار میں زیادہ حسین نظر آتا ہے اس کے روحانی حسن میں زیادہ چمک پیدا ہو جاتی ہے۔وہ اس میں اور زیادہ حسن پیدا کرنے کی کوشش کرتا ہے۔اس وقت بھی بہت سے اجتماعی کام ہیں جن میں ایک خدام الاحمدیہ کا کام ہے جس کا ایک