خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 349 of 640

خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 349

خطبات ناصر جلد چہارم ۳۴۹ خطبه جمعه ۱۱ راگست ۱۹۷۲ء استعمال کرنی پڑتی ہیں مگر ان کے غلط استعمال سے وہ بے شمار کیڑے جو مفید اور زندگی رکھنے والے ہیں اور اللہ تعالیٰ نے انہیں مثلاً انسان کے معدے، جگر اور انتڑیوں میں پیدا کیا ہے اور وہ نظام ہضم میں مد و معاون ہیں۔یہ ایک نابینا ہتھیار (اینٹی بایوٹک ادویہ ) انسان کے جسم میں جو مضرت رساں کیڑے ہیں یعنی پیچش اور ہیضہ کے کیڑے ہیں ان کا بھی قتل عام کر دیتا ہے اور جو مفید کیڑے ہیں اُن کا بھی قتل عام کر دیتا ہے۔بہر حال میں بتا یہ رہا ہوں کہ یہ ہماری استعدادیں ہیں جو باہر نکلیں ان کا صحیح استعمال کرنے والے خدا تعالیٰ کی نگاہ میں صالح کہلائے اور ان کا غلط استعمال کرنے والے مفسد کہلائے قرآن کریم نے کہا ہے کہ تم ان مفسدوں کے کاموں کا بھی جائزہ لو، غور اور تحقیق کرو اور ان کے دل اور معدہ کو پھاڑ و یعنی ان کی تھیوریز جس رنگ میں رو بہ عمل ہیں اور ان کی طاقتیں جس رنگ میں باہر نکل کر کام کر رہی ہیں اور جس رنگ میں ان کی استعداد میں مادی اشیاء میں کام کر رہی ہیں ان کو غور سے دیکھو تو تمہیں نظر آئے گا کہ ہلاکت کی تینوں قسمیں ان کے اندر پائی جاتی ہیں۔یہ ہے مفسد جسے قرآن کریم نے آل الْخِصَامِ “ بھی کہا ہے۔اب جہاں تک مادی ذرائع پیداوار کا تعلق ہے اس کی ایک تو بہت خطرناک شکل ایٹم کی طاقت کے غلط استعمال کی شکل میں نظر آتی ہے۔دوسرے کارخانوں کا بند رہنا ہے۔کارخانہ بھی ایک ذریعہ ہے جسے اللہ تعالیٰ نے انسان کی بہتری کے لئے پیدا کیا ہے۔اللہ تعالیٰ نے انسان کو عقل دی اور اس نے مادی ذرائع کو بروئے کار لا کر کارخانہ قائم کر دیا۔اب جس دن کا رخانہ بند رہا اس دن کی پیداوار سے نہ صرف مزدور بلکہ بنی نوع انسان اور ملک بھی محروم ہو گیا۔ایک کارخانہ مثلاً دولاکھ گز کپڑا ایک دن میں تیار کرتا ہے اگر وہ کارخانہ تالہ بندی یا ہڑتال کی وجہ سے ایک دن بند رہتا ہے تو اس ملک کے باشندے دولاکھ گز کپڑے سے محروم ہو گئے۔غرض اقتصادی اور معاشرتی لحاظ سے اس کے کیا نتیجے نکلے یہ ایک الگ اور مستقل مضمون ہے لیکن یہ ایک حقیقت ہے کہ فساد پیدا ہو گیا۔حقوق کی ادائیگی پر یہ چیز بہر حال اثر انداز ہوگی مثلاً کپڑے کی پیداوار کم ہونے کی وجہ سے قیمتیں چڑھ جائیں گی وہ غریب آدمی جو یہ سوچ رہا تھا کہ اب میرے پاس اتنے