خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 350
خطبات ناصر جلد چہارم ۳۵۰ خطبه جمعه ۱۱ راگست ۱۹۷۲ء پیسے ہو گئے ہیں کہ میں اپنے بچوں کو کپڑے بنادوں۔اس کے پاس اتنے پیسے نہیں رہیں گے کیونکہ کپڑے کی قیمت زیادہ ہو گئی اب اس کے پاس اتنے پیسے نہیں رہے کہ وہ کپڑ ا خرید سکے۔پھر وہ کہے گا کہ میں پانچ دن اور مزدوری کرتا ہوں تا کہ بچوں کے کپڑے بن جائیں۔یہ بیچارے مزدور کا حال ہے۔دوسرے ملکوں میں بھی اس کا یہی حال ہے حتی کہ چین میں بھی موجودہ حکومت سے قبل یہی حال تھا۔چین کی جو اقتصادی اور معاشرتی خوبیاں ہیں موجودہ حکومت کے وقت وہ ہم بیان کرتے ہیں کیونکہ قرآن کریم نے شراب اور جوئے کی بھی خوبی بتائی ہے۔بہر حال پرانے چین میں ایک قصہ بتایا جاتا ہے کہ ایک عورت برابر ۲۳ سال تک پیسے جوڑتی رہی اس نیت کے ساتھ کہ وہ اپنی بیٹی کو ایک گرم جوڑا سلوا دے مگر وہ ایک جوڑا تک نہ بنوا سکی کیونکہ ہوتا یہ رہا کہ جب وہ ایک حد تک پیسے جمع کر لیتی تو قیمتیں پھر بڑھ جاتیں۔یہاں تک کہ وه ۲۳ سال میں ایک گرم جوڑا نہ خرید سکی۔چنانچہ آپ خود دیکھ لیں پچھلے ۲۵ سال میں قیمتیں کہاں سے کہاں چلی گئیں۔یہ ایک فساد ہے۔یہ فساد دور ہونا چاہیے۔جو شخص اس فساد کو دور کرے گا ہم اس کی تعریف کریں گے خواہ وہ چیئر مین ماؤزے تنگ ہوں یا کوئی اور ہو۔اس حقیقت کے باوجود کہ پورا فساد وہ بھی ہمارے نزدیک دور نہیں کر سکے کیونکہ انسان کے پاس ایسی تعلیم ہی نہیں۔قرآن کریم کو وہ مانتے ہی نہیں۔میں کہا کرتا ہوں کہ وہ پچاس فیصد فساد دور کرنے کے قابل ہو گئے ہیں۔کیونکہ پچاس فیصد حقوق کی ادائیگی کے قابل ہو گئے ہیں مگر اسلام سو فیصد حقوق کی ادائیگی کی ضمانت دیتا ہے۔اس کے برعکس چینی سوشلسٹ پچاس فیصد حقوق دیتے ہیں۔میں نے یہاں کئی مسلمان لیڈروں سے کہا ہے کہ بیچارے غریب مزدوروں نے تمہارا کیا قصور کیا ہے کہ تم ان کو یہ کہ رہے ہو کہ پچاس پر راضی ہو جاؤ اور دوسرے پچاس کا مطالبہ نہ کرو جو اسلام انہیں دے رہا ہے۔تاہم جو شخص مزدور کو پچاس فیصد حقوق دے رہا ہے وہ اس شخص سے بہت اچھا اور قابل تعریف ہے جو مزدور کو یا تو کچھ بھی نہیں دے رہا اور اگر دے رہا ہے تو وہ ہیں پچیس فیصد سے زیادہ نہیں ہے۔اسلام نے ہمیں یہ بنیادی تعلیم سکھائی ہے کہ کسی شخص کو آنکھیں بند کر کے برا بھلا نہ کہو جو اس