خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 348
خطبات ناصر جلد چہارم ۳۴۸ خطبه جمعه ۱۱ را گست ۱۹۷۲ء کچھ خصوصیتیں علم طبعی سے ملتی ہیں۔تاہم جہاں تک سائنسی تحقیق میں حساب کا تعلق ہے سائنس دان بے شمار اربعے لگاتے ہیں اور بڑی لمبی لمبی ضر ہیں اور قسیمیں کرتے ہیں۔یہ چونکہ بڑا لمبا حساب بن جاتا ہے اس لئے انسان نے اس کو آسان کرنے کے لئے ایک مشکل سا مضمون بنادیا ہے جسے الجبرا کہا جاتا ہے۔چونکہ مجھے یہ مضمون سکول کے زمانے میں مشکل لگتا تھا اس لئے میں نے اسے مشکل کہہ دیا ہے۔بہر حال حساب کے مضمون کو آسان کرنے کے لئے لوگوں نے الجبرا بنا دیا۔اور اس کی علامتیں بنالیں مثلاً کہہ دیا۔ب۔ج کا یہ مطلب ہے اور پھر لوگ اس سے اصولاً کچھ نتائج اخذ کرتے ہیں۔چنانچہ سائنس دانوں نے انہی اصول وقواعد کے مطابق کچھ نتائج اخذ کئے اور چاند پر جانے کے قابل ہو گئے یا زمین میں اٹامک انرجی کو استعمال کرنے لگے وغیرہ وغیرہ۔غرض سائنس دانوں نے اپنی خدا داد طاقتوں اور قوتوں کو قوانین قدرت کے مطابق استعمال کیا۔آخر ایٹم کی طاقت کا پتہ کیسے لگا؟ یہ انسان کی طاقت تھی، یہ اس کی استعداد تھی جو اس کے جسم سے باہر نکل آئی گویا اس کی طاقت کی نسل ہو گئی۔اس کا انفصال ہو گیا۔یہ باہر نکلی اور نکلتی چلی جارہی ہے۔یہ ایک چشمہ ہے جو کبھی ختم نہیں ہو گا۔اسی طرح جب تک انسان زندہ ہے اس کی طاقتیں باہر نکلتی چلی جائیں گی۔یہ ایک تبدیلی ہے جو مسلسل رونما ہوتی چلی جائے گی۔پس حَزث سے مراد مادی ذرائع ہیں اور نسل انسان کی محنت ہے۔انسان اپنی طاقتوں کو کام پر لگاتا ہے۔یہ دو بنیادی چیزیں ہیں یہ دو بنیادی نعمتیں ہیں جو انسان کو دی گئی ہیں۔انسان اپنی فطرتی اہلیت کے صحیح استعمال کرنے پر ان سے فائدہ اٹھاتا ہے لیکن مفسد ان ہر دو قسم کی نعمتوں کو ہلاک اور برباد کر دیتا ہے۔ہلاکت کے سامان پیدا کرتا ہے وہ کبھی ایٹم بم سے زمین کی پیداوار کو ختم کر دیتا ہے کبھی وہ کیمیکل اجزاء چھڑک کر اچھے پودوں کو ضائع کر دیتا ہے۔ایسے مفسد آدمی نے ایک وقت میں کہا یہ تھا کہ اس نے یہ کیمیکل اجزاء اس لئے بنائے ہیں کہ وہ ان سے مضرت رساں کیڑوں کو ہلاک کرے گا لیکن جب وہ تحقیق کرتے ہوئے ایسے کیڑوں پر پہنچا جو مفید ہیں مضرت رساں نہیں تو ایسے مفسد اور ناشکرے انسان نے ان کیڑوں کو بھی ہلاک کر دیا۔اب مثلاً یہ اینٹی بائیوٹک وغیرہ قسم کی دوائیاں ہیں۔اللہ تعالیٰ معاف کرے کبھی مجبوری ہو تو